حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے انتہائی قیمتی علاقے رائے دُرگ میں زمین کی مجوزہ نیلامی نے وقف، ورثہ، ملکیت اور قانونی حیثیت سے متعلق ایک حساس تنازع کو پھر نمایاں کردیا ہے۔ خاص طور پر جامعہ نظامیہ سے وابستہ مبینہ وقف اراضی کے دعوے کے باعث اس معاملے پر وقف بورڈ، سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح رہنا ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں اس اراضی کو جامعہ نظامیہ کی وقف زمین قرار دینے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا؛ عدالت نے موجودہ درخواست میں نیلامی روکنے کے لیے مداخلت سے انکار کیا ہے اور درخواست گزار کو مناسب اعتراضات کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جامعہ نظامیہ اور متعلقہ وقف حلقوں کی جانب سے رائے دُرگ کی زمین کے ایک بڑے حصے پر وقف ملکیت کا دعویٰ سامنے آچکا ہے۔ بعض وقف ریکارڈ سے متعلق ذرائع کے مطابق جامعہ نظامیہ سے منسلک تقریباً 510 ایکڑ 35 گنٹے اراضی کے حقِ ملکیت اور وقف حیثیت پر بھی سوالات اور دعوے موجود ہیں۔
رائے دُرگ پَن مَکتا میں سروے نمبر 83/1 کی تقریباً 10.63 ایکڑ اراضی کو تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن (TGIIC) نے نیلامی کے لیے پیش کیا ہے۔ یہ زمین دو پلاٹس پر مشتمل ہے، جن کا رقبہ تقریباً 5.25 ایکڑ اور 5.38 ایکڑ ہے۔ TGIIC نے اس اراضی کے لیے 175 کروڑ روپے فی ایکڑ کی بنیادی قیمت مقرر کی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں پلاٹس کی کم از کم مجموعی مالیت تقریباً 1,860 کروڑ روپے بنتی ہے۔
حالیہ رائے دُرگ نیلامیوں میں بلند قیمتوں کے پیش نظر حکومت کو مسابقتی بولی کی صورت میں 2,000 سے 2,500 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ آمدنی کی امید بھی ظاہر کی گئی تھی۔ اسی نیلامی کو چیلنج کرتے ہوئے جوادی پرنیا سنگھ راؤ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل نیرج کشن کول نے مؤقف اختیار کیا کہ رائے دُرگ کی موجودہ زمین کا معاملہ کنچا گچی باؤلی کی متنازع زمین سے جڑا ہوا ہے اور ماضی میں سپریم کورٹ نے گچی باؤلی کی زمین کے معاملے میں مداخلت کی تھی۔
تاہم تلنگانہ حکومت کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک سنگھوی نے اس دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اراضی الگ ہیں اور ان کے درمیان تقریباً پانچ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار دونوں معاملات کو ملا کر پیش کررہا ہے۔
سپریم کورٹ نے موجودہ درخواست میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے اسے خارج کردیا اور واضح کیا کہ اگر درخواست گزار کو زمین کی ملکیت، قانونی حیثیت یا نیلامی کے طریقۂ کار پر اعتراض ہے تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود رائے دُرگ پَن مَکتا کی زمین سے متعلق سب سے اہم سوال بدستور برقرار ہے: کیا زیرِ نیلامی زمین جامعہ نظامیہ سے وابستہ وقف جائیداد کا حصہ ہے؟
جون 2026 میں جامعہ نظامیہ کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا تھا کہ سروے نمبر 83/1 کی زمین کے ایک حصے کو وقف جائیداد کے طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ متعلقہ رپورٹوں کے مطابق وقف بورڈ سے وابستہ ذرائع نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ زمین سے متعلق ریکارڈ کو UMEED پورٹل پر اپ لوڈ، جانچ اور منظور کیا گیا تھا۔
یہ دعویٰ اس لیے اہم ہے کہ اگر کسی اراضی کی وقف حیثیت قانونی طور پر ثابت ہوجائے تو اس کی منتقلی، فروخت یا نیلامی کا معاملہ عام سرکاری زمین کی طرح نہیں دیکھا جاسکتا۔ اسی لیے وقف ریکارڈ، ریونیو ریکارڈ، سابقہ دستاویزات اور عدالتی احکامات کی مکمل جانچ انتہائی ضروری ہوجاتی ہے۔
اس معاملے کا ایک وسیع تر پہلو بھی ہے۔ وقف بورڈ سے متعلق ذرائع اور جامعہ نظامیہ سے وابستہ حلقوں کی جانب سے تقریباً 510 ایکڑ 35 گنٹے اراضی کو وقف جائیداد قرار دینے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق یہ زمین تاریخی وقف دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ سے منسلک ہے۔
تاہم 510 ایکڑ کی مجموعی اراضی اور موجودہ 10.63 ایکڑ نیلامی کے درمیان قانونی تعلق کو حتمی طور پر ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔ اس لیے اس پورے معاملے میں کسی بھی فریق کے دعوے کو حتمی عدالتی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے دستاویزی اور قانونی جانچ ضروری ہے۔
رائے دُرگ کی زیرِ بحث زمین صرف وقف ملکیت کے دعوے کی وجہ سے ہی اہم نہیں ہے بلکہ اس کی Heritage حیثیت بھی تنازع کا حصہ بن چکی ہے۔ سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کو خط لکھ کر نیلامی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سروے نمبر 83 کو 2 جنوری 2003 کے G.O.Ms.No.4 کے تحت Heritage Site قرار دیا گیا تھا اور حکومت کو اس کی قانونی حیثیت واضح کیے بغیر اراضی کی نیلامی نہیں کرنی چاہیے۔
ہریش راؤ نے وقف، ملکیت اور ورثہ سے متعلق مختلف دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے اور زیرِ تنازع اراضی کے بارے میں مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ اسی سروے نمبر 83 کی تقریباً 6.2 ایکڑ زمین پہلے بھی نیلام کی جاچکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس زمین کی نیلامی تقریباً 237 کروڑ روپے فی ایکڑ کی قیمت پر ہوئی تھی، جس کے بعد اس زمین پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے ملکیت کا دعویٰ سامنے آیا اور معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ تک پہنچا۔ اسی پس منظر میں ہریش راؤ نے سوال اٹھایا کہ جب اسی سروے نمبر سے متعلق سابقہ اراضی کے حقِ ملکیت کا معاملہ عدالت میں زیرِ غور ہے تو مزید 10.63 ایکڑ زمین کو نیلامی کے لیے پیش کرنا کس حد تک مناسب ہے۔
اس تنازع کے دوران وقف ریکارڈ کے تحفظ کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ مسلم علمائے کرام، دینی و ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے رائے دُرگ کی مبینہ جامعہ نظامیہ وقف اراضی کی نیلامی پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ زمین کی قانونی حیثیت واضح ہونے تک کسی بھی قسم کی حتمی منتقلی، رجسٹریشن کی کاروائی کو روک دیا جائے۔ انہوں نے وقف اور ریونیو ریکارڈ کو محفوظ رکھنے پر بھی زور دیا تھا۔
اس پورے معاملے میں اصل توجہ اب ان سوالات پر مرکوز ہونی چاہیے:
* کیا سروے نمبر 83/1 کی موجودہ 10.63 ایکڑ زمین کا کوئی حصہ جامعہ نظامیہ کی وقف جائیداد کے ریکارڈ میں شامل ہے؟
* اگر ایسا دعویٰ موجود ہے تو وقف بورڈ اور ریونیو ریکارڈ میں اس کی کیا حیثیت ہے؟
* UMEED پورٹل پر درج ریکارڈ اور زمینی/ریونیو ریکارڈ میں کوئی تضاد تو نہیں؟
* سروے نمبر 83 کی Heritage حیثیت کا موجودہ نیلامی پر کیا قانونی اثر پڑتا ہے؟
* سابقہ 6.2 ایکڑ زمین سے متعلق زیرِ التوا ملکیتی تنازع کے باوجود نئی نیلامی کا قانونی جواز کیا ہے؟
* وقف، ریونیو اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی مکمل اور محفوظ جانچ کیوں نہ کی جائے؟
یہاں ایک اہم قانونی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے موجودہ درخواست کو خارج کرکے نیلامی میں مداخلت سے انکار کیا ہے، لیکن اس حکم کو اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ زمین وقف نہیں ہے یا جامعہ نظامیہ کا دعویٰ غلط ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کو اپنے اعتراضات کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی آزادی دی ہے۔ چنانچہ زمین کی ملکیت، وقف حیثیت، Heritage status یا دیگر متعلقہ قانونی دعووں پر آئندہ کارروائی مناسب عدالتی فورم پر ہوسکتی ہے۔


