سیکولر ملک میں مسلمانوں کو حاصل مذہبی حقوق کھٹکنے لگے! مسلم پرسنل لا میں تعددِ ازدواج کا معاملہ پھر سپریم کورٹ میں، مرکز سے جواب طلب

حیدرآباد (دکن فائلز) مسلم پرسنل لا کے تحت تعدد ازدواج کی قانونی حیثیت ایک بار پھر سپریم کورٹ کے سامنے آگئی ہے۔ عدالت نے مسلم مردوں کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دینے والے قانونی نظام کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ اس پیشرفت نے سیکولر ملک میں مسلمانوں کو حاصل مذہبی آزادی میں بے جا مداخلت اور مسلم پرسنل لا کے دائرہ کار سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سامنے دائر عرضیوں میں تعدد ازدواج کو آئینی مساوات کے اصول کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے قابل سزا جرم بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر موجودہ شادی برقرار رہتے ہوئے دوسری شادی کرنا عام فوجداری قانون کے تحت بعض دیگر شہریوں کے لیے جرم ہے تو مسلم پرسنل لا کے تحت مسلم مردوں کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت کیوں حاصل ہے۔

بھارتی مسلم مہلا آندولن کی شریک بانی ذکیہ سمن اور نورجہاں صفیہ نیاز سمیت پانچ کارکنوں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف ہے کہ قانون کے تحت شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے اور مذہب کی بنیاد پر ازدواجی قوانین میں موجود فرق کو آئینی مساوات کے پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے۔

درخواست گزاروں نے مسلم پرسنل لا شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 کی دفعہ 2 کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانونی شق کا تعلق مسلم شہریوں کے ذاتی قوانین سے ہے اور اس کے تحت تعدد ازدواج کو قانونی تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے آئین میں دی گئی مساوات اور عدم امتیاز کی ضمانتوں کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

عرضیوں میں آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 سمیت دیگر متعلقہ آئینی دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے ساتھ مذہب یا جنس کی بنیاد پر ایسا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے جو آئینی اصولوں سے متصادم ہو۔

درخواست گزاروں نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 82 کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ اس قانونی شق کے تحت بعض حالات میں موجودہ شادی برقرار رہتے ہوئے دوسری شادی کرنا قابل سزا جرم ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت تعدد ازدواج کی مختلف قانونی حیثیت اس سلسلے میں مساوات کے سوال کو جنم دیتی ہے۔

عرضیوں میں صرف تعدد ازدواج پر پابندی کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ مسلم شادیوں اور طلاق کی لازمی سرکاری رجسٹریشن کی ہدایت دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق شادیوں کی لازمی رجسٹریشن سے ایک شادی برقرار رہتے ہوئے دوسری شادی کے معاملات کی قانونی طور پر بروقت نشاندہی ممکن ہوسکے گی۔ درخواست گزاروں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اگر کوئی شوہر دوسری شادی کرتا ہے تو پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے رہائشی اور دیگر قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اس کے علاوہ عرضی گزاروں نے لا کمیشن آف انڈیا یا مرکزی حکومت سے مسلم پرسنل لا کو باقاعدہ قانونی ضابطے کی شکل دینے کی سمت اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق نکاح، طلاق اور وراثت جیسے معاملات میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے آئینی اصولوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

یہ معاملہ تقریباً نو برس بعد ایک مرتبہ پھر اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ 2017 میں سپریم کورٹ نے سائرہ بانو بنام یونین آف انڈیا مقدمے میں فوری تین طلاق یعنی طلاق بدعت کے معاملے پر تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ پانچ رکنی آئینی بنچ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے فوری تین طلاق کو ختم کردیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد مرکزی حکومت نے 2019 میں قانون سازی کرتے ہوئے فوری تین طلاق کو قابل سزا جرم قرار دیا۔ تاہم 2017 کے مقدمے میں تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کی آئینی حیثیت پر براہ راست حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا تھا۔

اسی وجہ سے موجودہ عرضیوں کے ذریعے تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ جیسے حساس سوالات ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے سامنے آگئے ہیں۔ یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ سپریم کورٹ نے فی الحال تعدد ازدواج کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دیا ہے۔ عدالت نے صرف عرضیوں پر مرکزی حکومت کا جواب طلب کیا ہے اور معاملے کی قانونی حیثیت پر مزید سماعت ہونا باقی ہے۔

2023 میں بھی سپریم کورٹ نے اشارہ دیا تھا کہ مناسب مرحلے پر تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے پانچ رکنی آئینی بنچ تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اب تازہ کارروائی کے بعد ملک میں یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرسکتی ہے کہ ایک سیکولر اور کثیر مذہبی ملک میں صرف مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر بے جا اعتراض کرنا کہاں تک صحیح ہے۔

مسلم پرسنل لا سے متعلق یہ معاملہ صرف تعدد ازدواج تک محدود نہیں بلکہ اس کے ممکنہ اثرات مذہبی آزادی، آئینی حقوق، خاندانی قوانین اور اقلیتی برادری کے ذاتی قوانین کے مستقبل تک پھیل سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے پر حتمی قانونی موقف سپریم کورٹ کے آئندہ فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں