پولیس حراست کے دوران ابھیجیت دیپکے پر غم کا پہاڑ! دادی کے انتقال سے خاندان میں صفِ ماتم

حیدرآباد (دکن فائلز) زندگی میں بعض اوقات صدمات اور آزمائشیں ایک ساتھ دستک دیتی ہیں۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نوجوان رہنما ابھیجیت دیپکے کے لیے ہفتے کا دن ایسا ہی دلخراش ثابت ہوا، جہاں ایک جانب ان کی سیاسی جدوجہد کو پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، تو دوسری جانب وہ ایک ایسے ذاتی نقصان سے دوچار ہوئے جس کی تلافی ممکن نہیں۔

ابھیجیت دیپکے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ انتخابی شفافیت کے مطالبات کو لے کر دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر دھرنا دینے کا عزم لیے ممبئی سے پرواز بھر کر نکلے تھے۔ مگر دہلی پہنچتے ہی طیارے کے دروازے پر پولیس نے ان کا راستہ روک لیا اور انہیں پرواز کے اندر ہی تحویل میں لے لیا گیا۔

ابھی حراست کی خبریں گردش میں ہی تھیں کہ ان کے آبائی گاؤں سنتوک پمپری (ہنگولی) سے وہ المناک اطلاع آ پہنچی جس نے سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا۔ ان کی 85 سالہ دادی، ساوتری بائی دیپکے، جو طویل عرصے سے بیماری سے لڑ رہی تھیں، انتقال کرگئیں۔

ایک پرعزم نوجوان، جو دارالحکومت میں اپنی آواز بلند کرنے پہنچا تھا، اچانک خود کو پولیس کے حصار اور دادی کے بچھڑنے کے غم کے درمیان بے بس پانے لگا۔ چھترپتی سمبھاجی نگر میں مقیم والدین، جو پہلے ہی گھر کے باہر پولیس کے پہرے کی فکرمندی میں تھے، اشکبار آنکھوں کے ساتھ آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ہنگولی روانہ ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں