سپریم کورٹ نے تمل ناڈو حکومت کے جلی کٹو قانون کو جائز قرار دیا

سپریم کورٹ نے تمل ناڈو سرکار کے اُس قانون کو جائزقرار دے دیا ہے، جس کے تحت ریاست میں بیلوں کو قابو میں کرنے کے کھیل جلی کٹو کی اجازت دی گئی ہے۔
جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی میں پانچ ججوں کی ایک آئینی بنچ نےبیل گاڑیوں کی دوڑ کی اجازت دیئے جانے سے متعلق مہاراشٹر کے قانون کو بھی جائزقرار دیا ہے۔ جسٹس کےایم جوزف، جسٹس اجے رستوگی، جسٹس انورُدھ بوس، جسٹس رشی کیشرائے اور جسٹس سی ٹی روی کمار پر مشتمل بنچ نے تمل ناڈو اور مہاراشٹر کے قوانین کوچیلنج کرنے والی عرضیوں پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔
سپریم کورٹ نے جانوروں کو شاملکرکے کھیلے جانے والے کھیلوں کی اجازت دیئے جانے سے متعلق کرناٹک سرکار کے قانونکو بھی جائز قرار دیا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ جلی کٹو کا کھیل گزشتہ کئی دہائیوں سےجاری ہے، سپریم کورٹ نے ریاستوں کے اُن قوانین کو چیلنج کرنے والی سبھی عرضداشتوںکو خارج کردیا، جن کے تحت بیلوں کو قابو میں کرنے کے کھیل جلی کٹو اور بیل گاڑیوںکی دوڑ کی اجازت دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں