کرناٹک کے بنگلورو میں آج منعقد ہوئی حلف برداری تقریب میں وزیر اعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے علاوہ 8 وزراء نے حلف اٹھایا۔ کرناٹک حکومت میں تنہا مسلم وزیر کے طور پر 56 برس کے ضمیر احمد خان حلف لیا، انہوں نے بنگلورو کے چامراجپیٹ اسمبلی حلقہ سے شاندار کامیابی حاصل کی اور بی جے پی امیدوار بھاسکر راؤ کو تقریباً 54 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرایا۔
ضمیر احمد خان کو سدارمیا کا قریبی تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ سدارمیا بھی ضمیر احمد خان کی طرح پہلے جے ڈی ایس میں تھےلیکن بعد میں دونوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔
ضمیر احمد خان کا سیاسی سفر جے ڈی ایس سے شروع ہوا۔ وہ پہلی بار 2005 کے ضمنی انتخاب میں چامراجپیٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 2006 میں ایچ ڈی کماراسوامی کی قیادت والی اتحادی حکومت میں وہ حج اور وقف بورڈ کے وزیر بنے۔
2016 میں جے ڈی ایس نے ضمیر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا تھا کیونکہ انہوں نے راجیہ سبھا انتخاب میں پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کانگریس امیدوار کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ 2018 میں کانگریس-جے ڈی ایس حکومت میں ایک بار پھر ضمیر احمد خان کو کابینہ میں جگہ ملی۔
ضمیر احمد خان کا شمار کرناٹک میں ایک بڑے مسلم رہنما کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ وہ بنگلور کی چامراجپیٹ سیٹ سے 5 مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔سیاسی کشمکش کے دوران سدارمیا کے حالیہ دہلی دورہ کے دوران ضمیر احمد خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔


