حیدرآباد کے پرانے شہر میں ایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق پرانی حویلی میں واقع ایک اسکول میں زیرتعلیم کمسن طالب علم کے ساتھ اسکول کے دیگر 4 نابالغ طلبا نے مبینہ طور پر بدفعلی کی۔ یہ شرمناک واقعہ آئندہ ماہ جون میں پیش آیا جبکہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے کوئی کاروائی نہ کرنے پر متاثرہ لڑکے کے والدین نے میرچوک پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر شکایت کی۔
متاثرہ لڑکا دوسری جماعت میں زیر تعلیم ہے جبکہ اسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے طلبا چوتھی تا چھٹویں جماعت کے بتائے جارہے ہیں۔
آج مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے اس مسئلہ پر ایک ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے اس مسئلہ پر مناسب کاروائی نہ کرنے کا پولیس پر الزام عائد کیا۔
انہوں نے ٹوئٹ میں ایف آئی آر کی کاپی بھی شیئر کی۔ ایف آئی آر کے مطابق تعزیرات ہند کی دفعہ 377 (غیر فطری جرائم) اور سیکشن 5 (بچوں کو فحش مقاصد کے لیے استعمال کرنا) اور پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (POCSO) ایکٹ 2012 کی دفعہ 6 (جنسی حملہ) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔


