ڈی مارٹ میں مسلم خاتون کے ساتھ مبینہ مذہبی امتیاز اور عصمت دری کی دھمکی! ملک بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر، احتجاج کے بعد پولیس نے شکایت درج (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے ضلع پالگھر کے ویرار (مغرب) کے یشونت نگر علاقے میں واقع ڈی مارٹ اسٹور میں ایک نہایت تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک مقامی مسلم خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ حجاب پہننے کی وجہ سے انہیں نہ صرف اسٹور میں داخل ہونے سے روکا گیا بلکہ مذہبی بنیاد پر گالی گلوچ اور عصمت دری کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

متاثرہ خاتون، جو نالا سوپارا ویسٹ کی رہائشی بتائی جا رہی ہیں، کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ خریداری کے لیے ڈی مارٹ پہنچی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹور میں موجود ایک ہندو جوڑے نے ان کے حجاب کو دیکھ کر نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی اور کہا کہ “تم گندی ذات کے ہو، دور رہو”۔

خاتون کے مطابق جب ان کے شوہر نے اس رویہ پر اعتراض کیا تو معاملہ مزید سنگین ہوگیا۔ الزام ہے کہ ہندو جوڑے کے مرد نے مذہبی شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے دھمکی دی کہ “تم مسلمان عورت ہو نا، باہر نکلو، میں آدمیوں کو بلا کر تمہارا ریپ کروا دوں گا۔”

متاثرہ خاتون نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دوران اسٹور میں موجود دیگر خریداروں اور ڈی مارٹ کے عملے نے مداخلت کرنے کے بجائے انہیں ہی خاموش رہنے کو کہا۔ خاتون کے مطابق عملے نے یہ شرط بھی رکھی کہ اگر وہ مراٹھی زبان میں بات نہیں کریں گی تو آئندہ انہیں اسٹور میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

پولیس کارروائی میں تاخیر کا الزام
خاتون کا کہنا ہے کہ واقعہ کے فوراً بعد انہوں نے ویرار پولیس سے رابطہ کیا، تاہم انہیں انصاف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وہ رات ساڑھے بارہ بجے تک پولیس اسٹیشن میں موجود رہیں لیکن اس وقت ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

ایک وائرل ویڈیو میں خاتون نے الزام لگایا کہ پولیس اسٹیشن میں تقریباً آٹھ پولیس اہلکار موجود تھے، مگر مخالف فریق کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کوئی خاتون کانسٹیبل موجود نہیں تھی اور ان سے مراٹھی زبان میں بات کرنے پر زور دیا گیا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پیش رفت
واقعہ کے بعد متاثرہ خاتون نے اپنی روداد پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جو تیزی سے وائرل ہوگئی اور “گلی نیوز” سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث آئی۔ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سماجی کارکن احمد میمن نے مداخلت کی اور متاثرہ خاتون کے ساتھ دوبارہ پولیس اسٹیشن پہنچے۔

احمد میمن کے مطابق اس بار اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (ACP) اور سینئر پولیس انسپکٹر (PI) سے بات چیت کے بعد شکایت کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی کے لیے درخواست داخل کی گئی ہے۔

ڈی مارٹ انتظامیہ کی معذرت
عوامی دباؤ اور سماجی کارکنوں کی مداخلت کے بعد ویرار ڈی مارٹ کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر متاثرہ خاتون سے معذرت کی ہے۔ تاہم خاتون نے الزام لگایا ہے کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم نہیں کی گئی اور مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ اسٹور میں مسلمانوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس پر انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

پولیس کا موقف
تاحال ویرار پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعہ کی مکمل جانچ کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

سماجی ہم آہنگی کی اپیل
سماجی کارکن احمد میمن نے اس موقع پر عوام سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذہب یا لباس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ معاشرے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات میں فوری اور غیر جانبدارانہ کارروائی کی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں