بڑی خبر: دہلی میں مسجد کے قریب انہدامی کاروائی کے بعد مقامی لوگوں کا زبردست احتجاج پتھراؤ، تشدد میں متعدد زخمی (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کے تاریخی علاقہ ترکمان گیٹ کے قریب واقع رام لیلا میدان میں منگل کی آدھی رات کے بعد بلدیاتی ادارے کی جانب سے اچانک انسدادِ تجاوزات مہم اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گئی، جب کچھ مقامی افراد نے کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پتھراؤ شروع کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پانچ پولیس اہلکاروں کے علاوہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن کی چوٹیں معمولی بتائی جا رہی ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے آدھی رات کے بعد کی گئی انہدامی کاروائی پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر عہدیدار صبح کا انتظار کیوں نہیں کیا۔ لوگ جب گہری نیند میں تھے تو اچانک انہدامی کاروائی کرنے کی کیا جلدی تھی۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے رویہ پر زبردست احتجاج کیا۔

میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کے حکام دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سید فیض الٰہی مسجد اور قبرستان سے متصل زمین پر غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق جیسے ہی رات تقریباً ایک بجے کارروائی شروع ہوئی، 25 سے 30 افراد نے پولیس اور ایم سی ڈی کی ٹیموں پر پتھراؤ کیا، جس کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا محدود استعمال کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر پولیس افسر ندھین والسَن نے بتایا کہ “پتھراؤ کے واقعات میں پانچ پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ سی سی ٹی وی اور باڈی کیمرہ فوٹیج کی مدد سے ہنگامہ کرنے والوں کی شناخت کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔”

ایم سی ڈی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران تقریباً 17 بلڈوزر استعمال کیے گئے اور کچھ ڈھانچوں کو مسمار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی رات کے وقت اس لیے کی گئی تاکہ عوام کو کم سے کم دشواری کا سامنا ہو۔

یہ انہدامی کارروائی دہلی ہائی کورٹ کے 12 نومبر 2025 کے حکم کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں ایم سی ڈی اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کو ترکمان گیٹ کے قریب رام لیلا میدان میں تقریباً 38,940 مربع فٹ سرکاری زمین سے تجاوزات ہٹانے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔ اکتوبر 2025 میں ہونے والے مشترکہ سروے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اس زمین پر سڑک، فٹ پاتھ، کمیونٹی ہال، پارکنگ ایریا اور ایک نجی کلینک سمیت کئی غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔

دسمبر میں ایم سی ڈی نے واضح کیا تھا کہ 0.195 ایکڑ زمین مسجد کے زیر استعمال ہے اور اس حصے پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، تاہم اس سے زائد رقبہ پر کوئی قانونی دستاویز پیش نہیں کی جا سکی، اس لیے وہ تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے۔

دوسری جانب، منگل کو دہلی ہائی کورٹ نے مسجد سید فیض الٰہی کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر غور کرتے ہوئے ایم سی ڈی، دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)، وزارتِ شہری ترقی، پی ڈبلیو ڈی اور دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کیے۔ جسٹس امت بنسل نے کہا کہ معاملہ قابلِ غور ہے اور تمام فریقین کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس کیس کی اگلی سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔

مسجد کی انتظامی کمیٹی نے اپنی عرضی میں موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ زمین وقف ایکٹ کے تحت نوٹیفائیڈ وقف جائیداد ہے، اس لیے اس سے متعلق تنازعات پر وقف ٹریبونل کو خصوصی اختیار حاصل ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہیں تجاوزات ہٹانے پر اعتراض نہیں، تاہم قبرستان کے حصے سے متعلق انہیں تحفظات ہیں۔

دریں اثنا، پولیس کے مطابق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ علاقے کو نو زونز میں تقسیم کیا گیا اور ہر حساس مقام پر اضافی نفری تعینات کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ کارروائی سے قبل مقامی افراد کے ساتھ تال میل اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی کیے گئے تھے۔

https://x.com/i/status/2008703810122965208

انہدامی کارروائی کے پیش نظر دہلی ٹریفک پولیس نے ایڈوائزری جاری کی، جس کے مطابق جواہر لال نہرو مارگ، اجمیری گیٹ، منٹو روڈ، دہلی گیٹ اور اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام کا خدشہ ہے۔ کئی سڑکیں مکمل طور پر بند رہیں گی، جب کہ شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق حالات اب قابو میں ہیں اور علاقے میں امن قائم ہے، تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ الرٹ پر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں