ملک میں فرقہ پرستی کا زہر، اے آر رحمان بھی بول پڑے! — سچ کہنے پر اتنا غصہ کیوں؟

حیدرآباد (دکن فائلز) آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے حالیہ ریمارکس نے ایک بار پھر ملک میں بڑھتی فرقہ واریت اور عدم برداشت کے سوال کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ بی بی سی نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رحمان نے یہ کہا کہ گزشتہ آٹھ سے دس برسوں میں ہندی فلم انڈسٹری میں ان کے کام کی رفتار سست ہوئی ہے، جس کی ایک ممکنہ وجہ بدلتی ہوئی طاقت کی سیاست اور ’’شاید کوئی فرقہ وارانہ پہلو‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات انہیں براہِ راست نہیں بلکہ “چائنیز وسپرز” کے ذریعے سننے کو ملی، مگر اتنا کہنا ہی بعض حلقوں کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔

رحمان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ہندوتوا اور فرقہ پرست عناصر کی جانب سے شدید تنقید شروع ہو گئی۔ اس کے جواب میں اے آر رحمان نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ان کی شناخت، ان کا گھر اور ان کی تخلیقی تحریک کا مرکز ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موسیقی ان کے لیے جوڑنے، احترام کرنے اور ثقافت کو منانے کا ذریعہ ہے، نہ کہ کسی کو دکھ پہنچانے کا۔

اے آر رحمان نے “میرا مقصد ہمیشہ لوگوں کو جوڑنا اور موسیقی کے ذریعہ خدمت کرنا رہا ہے۔” اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فنکار بدلتے سماجی اور سیاسی ماحول پر اپنے تجربہ کی بنیاد پر بات کرے تو اسے ’’خطرناک‘‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ کیا اے آر رحمان نے واقعی کچھ غلط کہا، یا پھر مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر دیا جسے تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ملک بھر میں فرقہ وارانہ سیاست، نفرت انگیز بیانیے اور اقلیتوں کے خلاف ماحول میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں اگر ایک عالمی سطح کا فنکار اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر ’’ممکنہ فرقہ وارانہ رویہ‘‘ کی بات کرے تو یہ ایک خدشہ ہے، جس پر ہر کسی کو غور کرنا چاہئے۔ اے آر رحمان کا مؤقف دراصل اسی بھارت کی بات کرتا ہے جو تخلیقی آزادی، تنوع اور احترام پر یقین رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں