بہار کے طویل ترین وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانے کا اعلان، وزیراعلیٰ عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) نتیش کمار نے جمعرات، 5 مارچ کو ایک اہم اور غیر متوقع اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ راجیہ سبھا کے انتخابات میں حصہ لیں گے، جس کے ساتھ ہی بہار کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کا دور اختتام کو پہنچے گا۔ وہ 2005 سے مسلسل مختلف ادوار میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے ہیں۔

جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سربراہ نتیش کمار نے اپنے بیان میں عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے انہیں جو اعتماد اور حمایت حاصل رہی، اسی کی بدولت وہ بہار کی خدمت کر سکے۔ انہوں نے کہا، “آپ کے اعتماد کی طاقت سے ہی آج بہار ترقی اور وقار کی ایک نئی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ اپنی پارلیمانی زندگی کے آغاز سے ہی ان کی خواہش رہی ہے کہ وہ ریاست کی دونوں قانون ساز اسمبلیوں (اسمبلی اور قانون ساز کونسل) کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے رکن بنیں۔ اسی خواہش کی تکمیل کے لیے انہوں نے اس بار راجیہ سبھا کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ چونکہ ریاست میں اس وقت جنتا دل (یونائیٹڈ) اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت برسرِ اقتدار ہے اور حالیہ 2025 اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی، اس لیے قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بار وزیر اعلیٰ کا عہدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حصے میں جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بہار کو پہلی بار بی جے پی کا وزیر اعلیٰ ملے گا، کیونکہ ہندی پٹی کی ریاستوں میں بہار واحد ریاست رہی ہے جہاں پارٹی اب تک اس منصب پر فائز نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ بہار سے راجیہ سبھا کی پانچ نشستوں پر 16 مارچ کو انتخابات ہونے والے ہیں اور کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ آج ہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سیاست میں بھی اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً 2024 کے عام انتخابات کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں ان کا کردار مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

نتیش کمار، جنہیں بہار کی سیاست کا “چانکیہ” بھی کہا جاتا ہے، کے اس فیصلے سے ریاست کے سیاسی توازن میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بہار کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا اور نئی قیادت ریاست کو کس سمت لے کر جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں