نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک! ملک بھر میں طلبا کا زبردست احتجاج، راہل گاندھی، اکھلیش یادو، اروند کیجریوال و دیگر اپوزیشن رہنماؤں کا مودی حکومت پر شدید حملہ

حیدرآباد (دکن فائلز) بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹرنس امتحان NEET-UG 2026 کے مبینہ پیپر لیک اور بعد ازاں امتحان کی منسوخی نے پورے ملک میں سیاسی، تعلیمی اور سماجی سطح پر شدید ہلچل مچا دی ہے۔ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے اس معاملے نے نہ صرف مرکزی حکومت بلکہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے “نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ” قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔

امتحان منسوخ ہونے کے بعد مختلف ریاستوں میں طلبہ، والدین اور طلبہ تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ کانگریس کی طلبہ تنظیم NSUI نے دہلی سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور الزام لگایا کہ امتحانی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ لاکھوں طلبہ نے برسوں کی محنت، ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات برداشت کرکے امتحان دیا، مگر پیپر لیک مافیا اور انتظامی لاپروائی نے ان کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے NEET بحران پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نوجوانوں کے مستقبل کے خلاف ایک جرم ہے۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت تعلیم کے نظام کو محفوظ رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بار بار ہونے والے پیپر لیکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ امتحانی اداروں پر حکومت کا کنٹرول کمزور ہو چکا ہے اور بدعنوان عناصر مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔

راہل نے بہار میں ہونے والی گرفتاریوں اور مبینہ سیاسی سرپرستی کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل مجرموں تک پہنچنے کے بجائے حکومت معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے کہا کہ پیپر لیک اب “قومی بحران” بن چکا ہے۔ ان کے مطابق “ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی امتحان کا پرچہ لیک ہو جاتا ہے، مگر حکومت کے پاس اس کا کوئی مستقل حل موجود نہیں۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار اور دیگر ریاستوں میں سرگرم پیپر لیک نیٹ ورک کو سیاسی تحفظ حاصل ہے۔

دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے NEET پیپر لیک معاملے کو “منظم کرپشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بڑے اسکینڈل بغیر سیاسی پشت پناہی کے ممکن نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی نگرانی سپریم کورٹ کے موجودہ جج سے کرائی جائے تاکہ سچ سامنے آسکے۔

کانگریس پارٹی نے NTA کے کردار پر براہ راست سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امتحانی نظام کی مسلسل ناکامی ناقابل قبول ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ اگر ایک ہی ادارہ بار بار تنازعات میں گھرتا رہے تو اس کی ساخت اور ذمہ داران دونوں کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

کانگریس نے یہ بھی کہا کہ حکومت ہر بار “تحقیقات جاری ہیں” کہہ کر معاملہ ٹال دیتی ہے، مگر طلبہ کو انصاف نہیں ملتا۔

رپورٹس کے مطابق بہار میں اس معاملے سے جڑے کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ ایک منظم گروہ امتحانی پرچے پہلے سے فروخت کرتا تھا۔ بعض ملزمان کے سیاسی روابط کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اصل ماسٹر مائنڈز کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے جبکہ چھوٹے کرداروں کو گرفتار کرکے معاملہ ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

سب سے زیادہ پریشانی ان لاکھوں طلبا کو لاحق ہے جنہوں نے ایمانداری سے امتحان دیا تھا۔ امتحان کی منسوخی کے بعد اب دوبارہ امتحان کے امکانات، نئی تاریخ، داخلہ شیڈول اور تعلیمی سیشن میں تاخیر جیسے کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار امتحانات کی منسوخی سے طلبہ کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ کئی امیدوار شدید دباؤ، بے چینی اور مایوسی کا شکار ہیں۔

NEET-UG 2026 بحران اب صرف ایک امتحانی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ حکومت کی شفافیت، ادارہ جاتی کارکردگی اور نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کا ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو پارلیمنٹ سے سڑک تک اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں جبکہ طلبہ تنظیمیں ملک گیر احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں