حیدرآباد (دکن فائلز) آسام حکومت نے کثرتِ ازدواج (Polygamy) کے خلاف اپنے متنازعہ رویہ کو سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دو یا دو سے زیادہ بیویاں رکھنے والے افراد کو اب ریاستی سرکاری فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایسے سرکاری ملازمین کو ملازمت سے بھی برطرف کیا جائے گا جو ایک سے زائد شادیاں کر چکے ہوں۔
یہ اعلان 2026-27 کے ریاستی بجٹ میں کیا گیا، جسے وزیر خزانہ جینت ملا برووا نے اسمبلی میں پیش کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ اقدام خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی مساوات کو فروغ دینے اور سماجی انصاف کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے Assam Services (Discipline and Appeal) Rules, 1964 میں ترمیم کی جائے گی تاکہ ایک سے زائد شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی ممکن ہو سکے۔
وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے بھی بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی۔
وہیں مسلم دانشوران کا کہنا ہے کہ آسام حکومت صرف اور صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس متنازعہ فیصلوں سے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور اس سے خواتین کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری شادی بیوہ و بے سہارا خواتین کا سہارا بننا اور ان کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ مسلم رہنماؤں نے حکومت کے فیصلہ پر تنقید کی۔
واضح رہے کہ آسام اسمبلی نے نومبر 2025 میں “آسام کثرتِ ازدواج ممانعت بل، 2025” منظور کیا تھا۔ اس قانون کے مطابق پہلی بیوی کو قانونی طور پر طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنا جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
البتہ ریاست کی بعض شیڈولڈ قبائل اور چھٹے شیڈول کے تحت آنے والے مخصوص قبائلی علاقوں کو اس قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔


