“نفرت کو محبت سے ختم کریں، قرآن پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے” — مولانا ارشد مدنی کا قومی یکجہتی کانفرنس سے خطاب

حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت، فرقہ واریت اور مذہبی تقسیم کو صرف محبت، اخوت اور باہمی احترام کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ **قرآنِ مجید صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، امن اور انصاف کا پیغام لے کر آیا ہے۔

لکھنؤ میں منعقدہ “پیغامِ قرآن و اتحاد کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ اسلام امن، رواداری، عدل اور انسانی بھائی چارے کا مذہب ہے اور قرآن کریم ہر انسان کو ایک دوسرے کے ساتھ انصاف، محبت اور حسنِ سلوک کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشرے کو نفرت کی سیاست سے نہیں بلکہ محبت اور انسانیت کے پیغام سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ بعض عناصر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ اسلام کسی بے گناہ انسان کے قتل، ظلم یا نفرت کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق قرآن واضح طور پر امن، عدل، مساوات اور انسانوں کے احترام کا درس دیتا ہے، اسی لیے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کردار اور اخلاق کے ذریعے اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ اگر معاشرے میں نفرت کو فروغ دیا گیا تو اس کا نقصان کسی ایک مذہب یا طبقے کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہوگا۔ اس لیے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے ملک میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر نے کہا کہ آئینِ ہند ہر شہری کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام طبقات کو انصاف، مساوات اور مذہبی آزادی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کی سیاست ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے نقصان دہ ہے، جبکہ محبت، بھائی چارہ اور آئینی اقدار ہی ہندوستان کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے قرآنِ کریم کے عالمگیر پیغام، قومی اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئین کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مذہبی رواداری اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں