حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک 25 سالہ سابق سافٹ ویئر انجینئر نے مبینہ طور پر ذہنی مسائل کے باعث آدھی رات کو گھر سے برہنہ حالت میں نکل کر تالاب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ اس واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے، جبکہ پوری واردات قریبی سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی ریکارڈ ہو گئی۔
پولیس کے مطابق متوفیہ کی شناخت تیجسونی کے نام سے ہوئی ہے، جو آندھرا پردیش کے دیوپلی گاؤں کی رہائشی تھیں۔ وہ بنگلور میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں، تاہم ملازمت کے شدید دباؤ کے باعث تقریباً چھ ماہ قبل استعفیٰ دے کر وشاکھاپٹنم منتقل ہو گئی تھیں۔
بعد ازاں دو ماہ قبل وہ اپنی والدہ ارونا کے ساتھ حیدرآباد کے پیرزادہ گوڑہ علاقے میں کرائے کے مکان میں رہنے لگیں۔ پولیس کے مطابق جمعہ کے روز ماں اور بیٹی نے میاپور علاقے میں نیا کرائے کا مکان تلاش کیا اور شام کو واپس گھر آ کر سو گئیں۔ رات تقریباً 2:30 بجے تیجسونی اچانک بیدار ہوئیں، والدہ کے کمرے کو باہر سے بند کیا اور ہاتھ میں ایک ساڑی لے کر برہنہ حالت میں گھر سے نکل گئیں۔
تحقیقات کے مطابق وہ راستے میں واقع بیرپا مندر پہنچیں، جہاں کچھ دیر پوجا کی، پھر وہاں سے دوڑتے ہوئے پیرزادہ گوڑہ جھیل کی طرف گئیں اور تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ صبح والدہ کی آنکھ کھلی تو انہوں نے دیکھا کہ کمرہ باہر سے بند ہے۔ مقامی لوگوں کی مدد سے دروازہ کھولا گیا، مگر بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی۔ تلاش کے دوران اس کی لاش تالاب سے برآمد ہوئی۔
اطلاع ملنے پر میڈی پلی پولیس، ہائیڈرا اور ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاش کو نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے گاندھی اسپتال منتقل کر دیا۔ متوفیہ کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی گزشتہ کچھ عرصے سے ذہنی دباؤ اور خوف (فوبیا) کا شکار تھی اور اکثر ڈراؤنے خوابوں کی شکایت کیا کرتی تھی۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ تیجسونی ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار تھیں۔ میڈی پلی پولیس نے مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ واقعے کی تمام وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔


