حیدرآباد (دکن فائلز) ملک بھر میں مبینہ نیٹ (NEET) بے ضابطگیوں، تعلیمی نظام میں شفافیت کے مطالبے اور دیگر عوامی مسائل کو لے کر “پارلیمنٹ چلو” مارچ کے دوران پیر کے روز قومی دارالحکومت دہلی میں کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی۔ ہزاروں طلبا، نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں سے وابستہ افراد نے پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی، تاہم پولیس نے متعدد مقامات پر انہیں روکنے کے لیے بیریکیڈنگ کی، آنسو گیس کے گولے داغے، پانی کی بوچھاڑ کی اور بعض مقامات پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ اس دوران کئی مظاہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ پرامن انداز میں اپنی آواز پارلیمنٹ تک پہنچانا چاہتے تھے کیونکہ آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے مستقبل، امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی جیسے اہم مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج میں شریک افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
دہلی پولیس نے پارلیمنٹ کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ کئی مقامات پر سڑکوں کو سیل کر دیا گیا، اضافی نفری تعینات کی گئی اور مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ جب بعض گروپوں نے بیریکیڈ عبور کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کے حساس علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا اس کی ذمہ داری ہے اور کارروائی قانون کے مطابق کی گئی۔
احتجاج کے دوران کئی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو سمیت متعدد رہنماؤں نے الزام لگایا کہ انہیں احتجاج میں شرکت سے روکا گیا اور حراست میں لیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ عوامی آواز کو دبانے کے بجائے حکومت کو نوجوانوں کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں اور حامی حلقوں نے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر نے ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی احتجاج کو قانون کی حدود میں رہ کر ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کی سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس احتجاج کے بعد ایک اور بحث نے بھی زور پکڑ لیا۔ اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور متعدد سماجی کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ اتنے بڑے احتجاج اور پولیس کارروائی کے باوجود ملک کے بعض بڑے ٹیلی ویژن چینلز اور قومی میڈیا نے اس واقعے کو محدود کوریج دی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب کسی احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوں، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں ہوں تو اسے نمایاں انداز میں رپورٹ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق میڈیا کا بنیادی فرض ہے کہ وہ عوامی مفاد سے جڑے ایسے واقعات کو غیر جانبداری سے عوام کے سامنے رکھے۔
دوسری طرف بعض میڈیا اداروں اور حکومت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی کوریج ادارتی فیصلوں کے مطابق ہوتی ہے اور میڈیا پر جانبداری کے الزامات درست نہیں۔ ان کے مطابق مختلف پلیٹ فارمز نے احتجاج کی اپنی ترجیحات کے مطابق رپورٹنگ کی۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستانی آئین شہریوں کو پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، تاہم اس حق کے ساتھ قانون کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اسی لیے ایسے واقعات میں ہمیشہ یہ بحث جنم لیتی ہے کہ ریاست امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق “پارلیمنٹ چلو” مارچ نے ایک مرتبہ پھر نوجوانوں کے مسائل، تعلیمی نظام میں اعتماد، احتجاج کے حق، پولیس کی کارروائی اور میڈیا کے کردار جیسے اہم سوالات کو قومی سطح پر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔


