حیدرآباد (دکن فائلز) نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج اب تلنگانہ بھی پہنچ گیا ہے۔ مختلف طلبا تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے 24 جولائی کو ریاست بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے بند کی اپیل کرتے ہوئے طلبا، اساتذہ، والدین، تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور دانشوروں سے بھرپور تعاون کی درخواست کی ہے۔
حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف، این ایس یو آئی، پی ڈی ایس یو، اے آئی ایف ڈی ایس، اے آئی ایس بی اور اے آئی پی ایس یو سمیت متعدد طلبا تنظیموں کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ملک میں مسلسل امتحانی بے ضابطگیوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔
طلبہ رہنماؤں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں نے ملک کے تعلیمی نظام کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو تحلیل کرنے اور متنازع وی وی بی ایس اے بل کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ تعلیمی اداروں کی خود مختاری کو متاثر کر رہا ہے۔
طلبا تنظیموں نے دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبا اور نوجوانوں پر پولیس کی کارروائی کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال کی شفاف تحقیقات کرا کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مشترکہ طلبا ایکشن کمیٹی نے اپیل کی کہ 24 جولائی کو ہونے والے تعلیمی اداروں کے بند کو کامیاب بنانے کے لیے تمام طلبا، اساتذہ، والدین، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھرپور تعاون کریں تاکہ تعلیمی نظام میں شفافیت اور طلبا کے حقوق کے تحفظ کا مؤثر پیغام دیا جا سکے۔


