پاسپورٹ بنانے یا تجدید میں ایس آئی آر کا رول؟ پارلیمنٹ میں مودی حکومت کی بڑی وضاحت

حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے یا اس کی تجدید کے عمل میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران جمع کیے گئے کسی بھی ڈیٹا کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہا کہ نہ وزارت خارجہ اور نہ ہی اس کے ماتحت کسی ادارے نے پاسپورٹ درخواستوں کی جانچ کے لیے ایس آئی آر کا ڈیٹا حاصل کیا یا استعمال کیا۔

یہ سوال سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے راجیہ سبھا میں اٹھایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ آیا پہلے بھارتی پاسپورٹ پر واضح طور پر “Citizen of India” یعنی “ہندوستان کا شہری” درج ہوتا تھا، اور اگر ایسا تھا تو اسے بعد میں کیوں ختم کیا گیا۔

وزارت خارجہ میں مملکتی وزیر کیرتی وردھن سنگھ نے تحریری جواب میں کہا کہ بھارتی پاسپورٹ وقت کے ساتھ بین الاقوامی شہری ہوابازی تنظیم (آئی سی اے او) کے معیارات کے مطابق مشین ریڈیبل پاسپورٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے، اسی لیے اب پاسپورٹ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق صرف “Nationality” یعنی “قومیت” درج کی جاتی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزارت خارجہ نے کہا کہ اگر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو جائے یا کسی دوسرے انتظامی قانون کے تحت اس کے خلاف کارروائی ہو، تو صرف اسی بنیاد پر اس کی شہریت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا اور نہ ہی اس وجہ سے پاسپورٹ کی تجدید سے انکار کیا جاتا ہے۔ حکومت نے کہا کہ پاسپورٹ کا اجرا پاسپورٹ ایکٹ 1967 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق کیا جاتا ہے۔

بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی سے متعلق سوال پر بھی حکومت نے اپنا موقف واضح کیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ مختلف نجی ادارے اپنے اپنے معیار کے مطابق پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی جاری کرتے ہیں، تاہم عالمی سطح پر ایسا کوئی متفقہ یا سرکاری نظام موجود نہیں جسے حتمی معیار مانا جا سکے۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی شہریوں کے لیے دنیا بھر میں سفر کو آسان بنانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ موجودہ وقت میں 27 ممالک بھارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا فری داخلہ دیتے ہیں، 47 ممالک ویزا آن ارائیول کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جبکہ 66 ممالک بھارتی شہریوں کو ای ویزا جاری کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ 2025 میں وزارت کے زیر انتظام 688 یاتریوں نے کیلاش مانسروور یاترا میں شرکت کی تھی، جبکہ 2026 میں ایک ہزار یاتریوں کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، جو اتراکھنڈ کے لیپولیکھ پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے راستے مختلف گروپوں میں یاترا کریں گے۔

ایک الگ سوال کے جواب میں حکومت نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران غیر ملکی بحری جہازوں پر پھنسے بھارتی ملاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 56، 2024 میں 132 اور 2025 میں 329 بھارتی ملاح مختلف غیر ملکی جہازوں پر پھنسے رہے، جن کی مدد کے لیے وزارت خارجہ مسلسل سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں