حیدرآباد (دکن فائلز) نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج کا دائرہ تلنگانہ تک پھیل گیا ہے۔ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے جمعہ کی نماز کے بعد حیدرآباد کے تاریخی چارمینار پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
مظاہرے میں ایس آئی او کے کارکنوں، طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر تعلیمی نظام میں شفافیت، طلبہ کو انصاف فراہم کرنے اور پولیس کارروائی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ درج تھا۔ مظاہرین نے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے طلبہ کے حق میں نعرے بھی لگائے۔
ایس آئی او کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہلی کے جنتر منتر اور اطراف میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ان کی آواز سننے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور دیگر سخت اقدامات کیے گئے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ اختلافِ رائے کا اظہار ہر شہری اور ہر طالب علم کا آئینی اور جمہوری حق ہے، جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران پولیس کی مبینہ کارروائی کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ایس آئی او نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور ملک کے تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے طلبہ کا اعتماد بحال ہو۔
مظاہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں اور نوجوانوں کے جائز مطالبات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سنجیدہ اقدامات کے ذریعے حل کیا جائے۔
احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں طلبہ کے حقوق، شفاف امتحانی نظام اور تعلیمی انصاف کے لیے جاری جدوجہد میں وہ اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور ہر جمہوری اور آئینی پلیٹ فارم پر طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی جاری رکھیں گے۔


