حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے ریاست کے عوام، بالخصوص غریب، پسماندہ اور دستاویزات سے محروم خاندانوں کو بڑی راحت فراہم کرتے ہوئے “تلنگانہ فیملی رجسٹر” (Telangana Family Register) کے قیام اور می سیوا eeSeva)** کے ذریعے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو عوامی سہولت اور انتظامی شفافیت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران شہریوں کو اپنی شناخت اور خاندانی معلومات ثابت کرنے میں بھی نمایاں آسانی ہوگی۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری سرکاری حکم نامے کے مطابق، اس نظام کا مقصد مختلف سرکاری خدمات کے حصول کے لیے شہریوں کو ایک مستند اور قابل اعتماد خاندانی ریکارڈ فراہم کرنا، خاندانی معلومات کی یکساں تصدیق کو یقینی بنانا اور تمام معلومات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا ہے۔
عوام کو کن سہولتوں کا فائدہ ہوگا؟
حکومت کے مطابق اب شہریوں کو مختلف سرکاری اسکیموں، سرٹیفکیٹس اور دیگر خدمات کے لیے بار بار الگ الگ دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ ایک مستند دستاویز کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، جس سے عام شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے اور غیر ضروری دشواریوں سے نجات ملنے کی توقع ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا کیونکہ بہت سے شہریوں کو اپنی خاندانی ساخت اور افراد کی تصدیق کے لیے مستند دستاویزات پیش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
فیملی رجسٹر میں کون سی معلومات شامل ہوں گی؟
سرکاری حکم نامے کے مطابق ہر خاندان کو ایک منفرد **فیملی رجسٹر شناختی نمبر** دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ درج ذیل معلومات ریکارڈ کا حصہ ہوں گی:
* خاندان کے سربراہ کا نام
* تمام افراد کے نام
* خاندان کے سربراہ سے ہر فرد کا رشتہ
* عمر
* تاریخ پیدائش
* جنس
* آدھار نمبر
* موجودہ رہائشی پتہ
یہ تمام ریکارڈ مکمل طور پر **الیکٹرانک (ڈیجیٹل)** شکل میں محفوظ کیا جائے گا اور ضرورت کے وقت می سیوا پلیٹ فارم کے ذریعے سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکے گا۔
اسدالدین اویسی نے حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے تلنگانہ حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے “بروقت اور عوامی مفاد کا فیصلہ” قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے کانگریس کے سینئر رہنما فہیم قریشی کے ساتھ مل کر حکومت کے سامنے اس معاملے پر نمائندگی کی تھی۔
اویسی نے کہا کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ ان 12 دستاویزات میں شامل ہے جنہیں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی شہری کو ایس آئی آر کے تحت نوٹس موصول ہوتا ہے تو یہ سرٹیفکیٹ اس کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا، خاص طور پر ایسے غریب اور دستاویزات سے محروم افراد کے لیے جنہیں اپنی شہریت یا خاندانی تفصیلات ثابت کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے۔
فہیم قریشی اور محمد علی شبیر کی کوششیں بھی رنگ لائیں
اس معاملے پر کانگریس رہنما فہیم قریشی کی نمائندگی اور حکومت سے مسلسل رابطے کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور محمد علی شبیر نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہزاروں ضرورت مند خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا اور سرکاری خدمات تک رسائی مزید آسان ہوگی۔
سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو ان کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جن کے ذریعے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی۔
ایس آئی آر کے خدشات میں کمی آنے کی توقع
ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تناظر میں یہ فیصلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ چونکہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ قابل قبول دستاویزات میں شامل ہے، اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ ایسے شہری، جن کے پاس دیگر ضروری دستاویزات موجود نہیں ہیں، اب اس سرٹیفکیٹ کی مدد سے اپنی معلومات کی تصدیق کرا سکیں گے۔
اسی وجہ سے کئی سماجی اور سیاسی حلقے اس فیصلے کو عوامی مفاد میں ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جس سے خصوصاً غریب، مزدور، اقلیتی اور دستاویزات سے محروم طبقات کو بڑی سہولت حاصل ہونے کی امید ہے۔
بی جے پی نے اعتراض اٹھایا
دوسری جانب ریاستی بی جے پی نے اس فیصلے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر این رام چندر راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت ایس آئی آر کے دوران اپنے مبینہ “غیر قانونی ووٹ بینک” کو بچانے کے لیے جلد بازی میں فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ جاری کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی ریاست کی انتخابی فہرستوں میں کسی بھی غیر قانونی روہنگیا، بنگلہ دیشی یا پاکستانی شہری کو برقرار نہیں رہنے دے گی اور اس معاملے پر سڑک سے عدالت تک جدوجہد کرے گی۔
حکومت کا مؤقف
تاہم حکومت کے سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ **فیملی رجسٹر** کا بنیادی مقصد شہریوں کو سرکاری خدمات کی فراہمی کو آسان بنانا، خاندانی معلومات کی تصدیق کے لیے ایک مستند نظام قائم کرنا اور عوام کو بار بار مختلف دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت سے نجات دلانا ہے۔
تلنگانہ حکومت کے اس فیصلے کو ریاست کی ای گورننس پالیسی کا ایک اہم قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے عوامی خدمات کو مزید شفاف، تیز اور آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


