حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک معاملے پر ملک گیر طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ پولیس زیادتیوں اور طاقت کے استعمال سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت اس پورے معاملے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ جمہوری نظام میں احتجاج ایک فطری عمل ہے، تاہم احتجاج کے دوران قانون ہاتھ میں لینے والے یا طاقت کا ناجائز استعمال کرنے والے کسی بھی فرد کو قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں احتجاج کے دوران گرفتار یا حراست میں لیے گئے ایسے تمام 18 سال سے کم عمر طلبہ کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر طلبہ کے خلاف سخت کارروائی مناسب نہیں، البتہ جن افراد کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ ہے، ان پر یہ رعایت لاگو نہیں ہوگی۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کیے گئے مواد سے بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مبینہ طور پر قابلِ تعزیر جرائم کے ارتکاب کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
عدالت نے خاص طور پر ان الزامات کا ذکر کیا جن میں طلبہ، خواتین، وکلا اور صحافیوں پر مبینہ تشدد، شدید زخمی ہونے اور طاقت کے بے جا استعمال کی شکایات شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسے الزامات موجود ہیں تو پھر ان کی آزادانہ تحقیقات کیوں نہ کرائی جائیں؟
سماعت کے دوران عدالت نے ان الزامات کا بھی نوٹس لیا کہ احتجاج منتشر کرنے کے لیے مبینہ طور پر پیلٹ گن، ربڑ کی گولیاں، برقی بیٹن اور کیل لگی لاٹھیاں استعمال کی گئیں، جس کے نتیجے میں کئی طلبہ زخمی ہوئے اور ایک طالب علم کی بینائی متاثر ہونے کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔ عدالت نے ان تمام الزامات کو تحقیقات کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، دہلی پولیس اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کو حکم دیا کہ احتجاج سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈرون ویڈیوز، باڈی کیم ریکارڈنگ، وائرلیس کمیونیکیشن، پی سی آر لاگز اور دیگر الیکٹرانک شواہد محفوظ رکھے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی تحقیقات میں ان کا استعمال کیا جا سکے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کا ذاتی اور ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ رکھا جائے، لیکن اسے عوامی سطح پر جاری نہ کیا جائے تاکہ ان کی رازداری متاثر نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر مرکزی حکومت، دہلی پولیس، آسام، بہار، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اتر پردیش اور مغربی بنگال سمیت متعلقہ ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ تمام فریق عدالت کی معاونت کریں تاکہ احتجاج اور پولیس کارروائی کے لیے مستقبل میں ایک یکساں قومی رہنما اصول تیار کیے جا سکیں۔
ادھر احتجاج میں شریک متعدد طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے نصب آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی فیشل ریکگنیشن کیمروں کے ذریعے ان کی شناخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث بہت سے طلبہ ماسک اور چشمے پہن کر احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں۔
طلبا کا کہنا ہے کہ اگر ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی تو مستقبل میں سرکاری یا نجی ملازمت، پاسپورٹ، ویزا اور بیرون ملک تعلیم کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین نے اگرچہ واضح کیا کہ صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر پاسپورٹ مسترد نہیں کیا جا سکتا، تاہم پولیس ویریفکیشن کے دوران مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف ہے کہ یہ کیمرے صرف جرائم پیشہ افراد کی شناخت کے لیے نصب کیے گئے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے کارکن اسے شہری آزادیوں کے لیے تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے حکومت کی جانب سے احتجاجی طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد اپنی مجوزہ نئی احتجاجی تحریک فی الحال معطل کر دی ہے۔
سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے بتایا کہ حکومت کے نمائندوں نے بہار اور آسام حکومتوں کی جانب سے جاری سرکاری نوٹیفکیشنز دکھائے ہیں، جن میں احتجاجیوں کے خلاف مقدمات واپس لینے اور آئندہ ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تمام متعلقہ ریاستوں سے اسی نوعیت کی تحریری یقین دہانیاں نہیں ملتیں، وہ صورتحال پر نظر رکھیں گے۔
اس دوران دہلی پولیس نے ایک الگ دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 سے 25 جولائی کے درمیان جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج میں 2,873 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا مبینہ طور پر مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ پولیس کے مطابق فیشل ریکگنیشن سسٹم اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان افراد کی شناخت کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد کے خلاف قتل، عصمت دری، پوکسو قانون، اغوا اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔ پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ افراد احتجاج میں بدنظمی پھیلانے کے مقصد سے شامل ہوئے تھے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے متوقع ہے، جس میں عدالت تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل، حکومتوں کے جوابات اور مزید قانونی کارروائی کے حوالے سے اہم فیصلے کر سکتی ہے۔


