آر ایس ایس کا مکروہ چہرہ بے نقاب؟ ’میں ہوتا تو طلبا پر گولی چلانے کا حکم دیتا‘، شدت پسند ٹی جی موہن داس کے خوفناک بیان پر ملک بھر میں شدید ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کے جنتر منتر میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پر گولی چلانے سے متعلق متنازع بیان دینے والے دائیں بازو کے سیاسی مبصر اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے لاڈلے سمجھے جانے والے ٹی جی موہن داس کے بیان پر ملک بھر میں شدید سیاسی اور سماجی ردِعمل سامنے آیا ہے۔

اتوار کے روز موہن داس کے یوٹیوب چینل “پاتھریکا” پر ان کا ایک انٹرویو وائرل ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر جنتر منتر کے احتجاج سے نمٹنے کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی تو وہ سب سے پہلے پورے علاقے میں کرفیو نافذ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً چار مربع کلومیٹر کے علاقے کو سیل کرتے، لاوڈ اسپیکر کے ذریعے تین مرتبہ مظاہرین کو منتشر ہونے کی وارننگ دیتے اور اگر لوگ نہ ہٹتے تو پولیس کو فائرنگ کا حکم دے دیتے۔

موہن داس کے مطابق، “لوگ بھاگ جائیں گے، کچھ مر جائیں گے، کچھ زخمی ہوں گے، لیکن چار گھنٹے میں پورا علاقہ پرسکون ہو جائے گا۔” ان کے اس بیان کو انسانی حقوق کے کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے انتہائی خطرناک اور غیر جمہوری قرار دیا۔

اسی انٹرویو میں ٹی جی موہن داس نے احتجاج میں شریک نوجوانوں اور طلبا کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ اگر انہیں نہ روکا جائے تو وہ مستقبل میں سنگین جرائم میں ملوث ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

انہوں نے احتجاج میں شریک خواتین کے بارے میں بھی ایسے ریمارکس دیے جنہیں ناقدین نے توہین آمیز، جنس پرستانہ اور نفرت انگیز قرار دیا۔ ان بیانات پر بھی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی۔

ٹی جی موہن داس کے بیان کے خلاف آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے ریاستی پولیس چیف کو باضابطہ شکایت پیش کی۔ طلبہ تنظیم نے الزام لگایا کہ موہن داس نے عوامی سطح پر طلبہ کو “گولی مار دینے” کی اپیل کی، جو نہ صرف تشدد پر اکسانے کے مترادف ہے بلکہ اجتماعی قتل کی حمایت بھی تصور کی جا سکتی ہے۔

شکایت میں مطالبہ کیا گیا کہ موہن داس کے خلاف تمام متعلقہ فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور اس یوٹیوب چینل، ویڈیو کے اصل ماخذ، ڈیجیٹل ریکارڈ اور سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ شکایت کے بعد کیرالا حکومت نے پولیس کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

کیرالا کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے بھی موہن داس کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے خیالات اختلاف رائے کو طاقت کے ذریعے دبانے کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسے بیانات سنگھ پریوار کی سوچ کو ظاہر کرتے ہیں، جس میں اختلافی آوازوں کو برداشت کرنے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے۔

شدید تنقید کے بعد ٹی جی موہن داس نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کا انگریزی ترجمہ اور سیاق و سباق درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے الفاظ کو اصل مفہوم سے ہٹا کر پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے غیر ضروری تنازع پیدا ہوا، تاہم ناقدین نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا۔

وہیں بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد خود آر ایس ایس نے بھی ان کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، جس سے تنظیم کا کوئی تعلق نہیں اور ایسے خیالات کی سخت ترین انداز میں مذمت کی جانی چاہیے۔ آر ایس ایس کے سینئر عہدیدار کے بی سری کمار نے منگل کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ٹی جی موہن داس کسی بھی سطح پر آر ایس ایس کے عہدیدار نہیں ہیں اور جنتر منتر کے احتجاج سے متعلق ان کے خیالات مکمل طور پر ذاتی نوعیت کے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ “ٹی جی موہن داس کے حالیہ احتجاج سے متعلق خیالات ان کی ذاتی رائے ہیں۔ وہ آر ایس ایس کے کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہیں۔ آر ایس ایس ان کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتی اور ان خیالات کی سخت ترین انداز میں مذمت کی جانی چاہیے۔”

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں طلبا کی تحریک زور پکڑ چکی تھی اور دہلی کے جنتر منتر میں ہزاروں طلبا نے احتجاج کیا تھا۔ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، طاقت کے مبینہ استعمال، پیلٹ گن چلانے کے الزامات اور بعد ازاں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں