وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو امریکہ جانے کی مرکزی حکومت نے نہیں دی اجازت! کیا یہ تلنگانہ عوام کی بے عزتی نہیں؟

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے مجوزہ دورۂ امریکہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی کلیئرنس نہ ملنے کے بعد منسوخ کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں اور اب امریکہ جانے کے بجائے 23 اگست کو لندن سے حیدرآباد واپس ہوں گے۔ ان کا ابتدائی پروگرام 30 اگست کو حیدرآباد واپسی کا تھا۔

تلنگانہ وزیراعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) کے مطابق وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے مجوزہ سرکاری دورے کے لیے سیاسی کلیئرنس دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیاسی نقطۂ نظر سے کلیئرنس مسترد کی جاتی ہے۔‘‘ ریاستی حکومت نے برطانیہ اور امریکہ دونوں کے دورے کے لیے مرکزی حکومت سے اجازت طلب کی تھی، تاہم صرف برطانیہ کے دورے کو منظوری دی گئی۔

ریونت ریڈی کو TelanganaRising کے سرکاری وفد کی قیادت کرتے ہوئے امریکہ جانا تھا۔ مجوزہ دورے میں بوسٹن اور نیویارک سمیت کئی مقامات پر اعلیٰ تعلیمی اداروں، عالمی کمپنیوں اور مختلف اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں شامل تھیں۔

پہلے سے جاری پروگرام کے مطابق وزیراعلیٰ کو ہارورڈ یونیورسٹی، ایم آئی ٹی، نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک سے متعلق ملاقاتوں اور پروگراموں میں شرکت کرنا تھی، جبکہ نیویارک میں بھی ایک پروگرام طے تھا۔ مرکزی حکومت کی اجازت نہ ملنے کے بعد یہ تمام امریکی پروگرام وزیراعلیٰ کی براہِ راست شرکت کے بغیر مکمل کرنے یا منسوخ کرنے کی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے۔

وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق ریونت ریڈی نے مرکز کی جانب سے سیاسی کلیئرنس نہ ملنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ دورے کا مقصد سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ تلنگانہ میں عالمی معیار کے تعلیمی اور ہنرمندی کے ادارے لانا اور نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا تھا۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے ہندوستان اور خاص طور پر حیدرآباد میں اپنے مراکز یا شراکت داری قائم کریں، تاکہ ریاست کے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم، تربیت اور ہنر اپنے ہی ملک میں حاصل ہوسکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کی تعمیر اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات کو سیاست اور انتخابات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد پہلے ہی جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی، حیدرآباد پبلک اسکول، آئی آئی ٹی، آئی ایس بی، آئی آئی آئی ٹی اور دیگر اداروں کی وجہ سے تعلیم اور ہنرمندی کے میدان میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے حیدرآباد پبلک اسکول کے سابق طلبہ میں عالمی ٹیکنالوجی شعبے کی معروف شخصیات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں عالمی معیار کے تعلیمی اور ہنرمندی کے اداروں کے لیے مضبوط بنیاد موجود ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق ریاستی حکومت کا مقصد حیدرآباد کو ایسا عالمی علمی مرکز بنانا ہے جہاں ہندوستانی طلبہ کو دنیا کے اعلیٰ اداروں کے معیار کی تعلیم اور سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کے مواقع میسر ہوں۔ ریونت ریڈی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ طے شدہ امریکہ دورے کے پروگراموں کو آگے بڑھائیں اور مختلف اداروں کے ساتھ ایم او یوز اور شراکت داری کے معاہدوں کو مکمل کرنے کی کوشش کریں۔

ان کے مطابق امریکہ کا دورہ صرف ایک رسمی سرکاری دورہ نہیں تھا بلکہ تلنگانہ میں عالمی تعلیمی اداروں کو لانے اور نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی سطح کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔ امریکی دورہ منسوخ ہونے کے باوجود ریونت ریڈی برطانیہ میں طے شدہ پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ ان کے شیڈول میں آکسفورڈ یونیورسٹی، کیمبرج، لندن اسکول آف اکنامکس، لندن بزنس اسکول اور یونیورسٹی آف لندن سے متعلق ملاقاتیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وہ برطانیہ میں کھیلوں کے اداروں اور ہنرمندی کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور تلنگانہ کے ساتھ ممکنہ شراکت داری کے امکانات پر بات کریں گے۔ وزیراعلیٰ کے امریکی دورے کو سیاسی کلیئرنس نہ ملنے کے معاملے نے مرکز اور تلنگانہ حکومت کے درمیان تعلقات اور ریاستی وزرائے اعلیٰ کے غیر ملکی دوروں کے لیے مرکزی منظوری کے طریقۂ کار پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔

فی الحال مرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی کلیئرنس مسترد کرنے کی تفصیلی وجہ عوامی طور پر واضح نہیں کی گئی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت کو صرف یہ بتایا گیا کہ ’’political angle‘‘ سے کلیئرنس نہیں دی گئی۔ ریونت ریڈی اب 23 اگست کو لندن سے حیدرآباد واپس ہوں گے، جبکہ ان کی حکومت کے مطابق امریکہ سے متعلق تعلیمی اور ادارہ جاتی شراکت داری کے پروگرام متعلقہ حکام کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں