حیدرآباد (دکن فائلز) وندے ماترم کو لے کر ملک میں ایک بار پھر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کی تقریبات میں قومی گیت وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔ کانگریس نے اپنے اس فیصلے کے لیے 1937 میں کیے گئے تاریخی فیصلے کو بنیاد بنایا ہے۔
کانگریس کا یہ موقف کسی قومی گیت کی توہین نہیں بلکہ ایک تاریخی فیصلے پر قائم رہنے کا معاملہ ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ وندے ماترم کے پہلے دو بند گانے کے اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہے۔ کانگریس کے اس فیصلے کو سیکولر حلقوں کی جانب سے سراہا جارہا ہے، جبکہ بی جے پی اور ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بی جے پی کے قومی صدر نتن نَبن نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے اسے ’نئی مسلم لیگ‘ تک قرار دے دیا۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک تاریخی اور ثقافتی معاملے کو بھی سیاسی الزام تراشی اور مذہبی تقسیم کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے فیصلے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن اسے ’مسلم لیگ‘ سے تشبیہ دینا محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ فرقہ وارانہ سیاست کو ہوا دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
وندے ماترم ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی تاریخ سے گہرا تعلق رکھنے والا قومی گیت ہے اور اس کا احترام اپنی جگہ مسلم ہے۔ تاہم کسی شہری یا سیاسی جماعت کی حب الوطنی کا فیصلہ اس بنیاد پر کرنا کہ وہ وندے ماترم کے کتنے بند گاتی ہے، جمہوری سیاست کے لیے صحت مند روایت نہیں ہوسکتی۔
کانگریس نے اپنے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے صرف دو بند گانے کا موقف اختیار کیا ہے۔ اس فیصلے سے اختلاف کرنے والوں کو سیاسی اور آئینی دلائل کے ساتھ اختلاف کرنا چاہیے، نہ کہ مخالفین کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا چاہیے۔
حالیہ تنازع میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی کانگریس کے فیصلے کو ’انتہائی خوشامدانہ سیاست‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ اس طرح ایک ثقافتی اور تاریخی مسئلہ ایک بار پھر سیاسی اور مذہبی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
کانگریس کے فیصلے پر بی جے پی اور ہندوتوا حلقوں کی شدید تنقید کے درمیان کانگریس اور اس کے حامی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آج دوسروں کو حب الوطنی کا درس دینے والوں کو اپنے تاریخی کردار کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
سیاسی مخالفین پر ’ملک دشمنی‘ کے الزامات عائد کرنا آسان ہے، لیکن آزادی کی تحریک کے دوران مختلف سیاسی و نظریاتی تنظیموں کے کردار اور ان کے برطانوی حکومت کے ساتھ تعلقات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ایسے میں دوسروں کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے سے پہلے اپنے ماضی کا احتساب کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر قومی علامت کو سیاسی اختلاف کا ہتھیار بنانا ملک کو متحد کرے گا یا معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کرے گا؟ وندے ماترم کا احترام اپنی جگہ، لیکن اس کے حوالے سے اختلاف کو مسلمانوں، کانگریس یا کسی دوسرے طبقے کی حب الوطنی سے جوڑنا ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔


