یکم اکتوبر سے ایس بی آئی کا نیا اصول: ماہانہ پانچویں مرتبہ نقد رقم نکالنے پر ادا کرنی ہوگی فیس

حیدرآباد (دکن فائلز) اگر آپ کا اکاؤنٹ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) میں بیسک سیونگس بینک ڈپازٹ (BSBD) اکاؤنٹ ہے تو یکم اکتوبر 2026 سے نقد رقم نکالتے وقت آپ کو اپنے ماہانہ لین دین کا حساب رکھنا ہوگا۔

ایس بی آئی نے بی ایس بی ڈی اکاؤنٹ کے لیے نقد رقم نکالنے سے متعلق قواعد میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئے اصول کے تحت صارفین ایک ماہ میں صرف چار مرتبہ نقد رقم مفت نکال سکیں گے۔ اس کے بعد اسی ماہ پانچویں مرتبہ نقد رقم نکالنے پر 15 روپے کے علاوہ جی ایس ٹی بھی وصول کیا جائے گا۔

یہ نیا اصول ایس بی آئی کے تمام عام سیونگس اکاؤنٹس پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ صرف بیسک سیونگس بینک ڈپازٹ (BSBD) اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین اس سے متاثر ہوں گے۔ چار مفت نقد رقم نکالنے کی حد میں ایس بی آئی کے اے ٹی ایم کے ساتھ ساتھ دیگر بینکوں کے اے ٹی ایم سے کی جانے والی نقد رقم کی نکاسی بھی شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ بینک کی شاخ سے نقد رقم نکالنا اور AEPS (Aadhaar Enabled Payment System) کے ذریعے کی جانے والی نقد رقم کی منتقلی بھی اسی حد میں شمار کی جائے گی۔

یعنی اگر کسی صارف نے ایک ماہ کے دوران اے ٹی ایم، بینک برانچ اور AEPS کے ذریعے مجموعی طور پر چار مرتبہ نقد رقم نکال لی تو اس کے بعد اسی ماہ مزید نقد رقم نکالنے پر 15 روپے اور جی ایس ٹی ادا کرنا ہوگا۔ ایس بی آئی نے نئے قواعد میں ایک اہم تبدیلی یہ کی ہے کہ اب ڈیجیٹل لین دین کو نقد رقم نکالنے کی چار مفت کارروائیوں کی گنتی سے الگ رکھنے کی رعایت ختم کردی گئی ہے۔

اس تبدیلی کے بعد بی ایس بی ڈی اکاؤنٹ رکھنے والے صارفین کو اپنے ماہانہ لین دین پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کرنا ہوگی۔ ایس بی آئی کے مطابق نئے قواعد یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔ بیسک سیونگس بینک ڈپازٹ اکاؤنٹ کم آمدنی والے اور بنیادی بینکاری سہولیات سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس اکاؤنٹ میں کم از کم بیلنس برقرار رکھنے کی کوئی شرط نہیں ہوتی۔

اس اکاؤنٹ کے ساتھ چیک بک کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی، جبکہ صارف کو روپے اے ٹی ایم-کم-ڈیبٹ کارڈ مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ بینک کے مطابق بی ایس بی ڈی اکاؤنٹ رکھنے والا شخص ایس بی آئی میں بیک وقت دوسرا سیونگس اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں