نلگنڈہ (دکن فائلز) تلنگانہ کے نلگنڈہ ضلع کے کونڈاملی پلی میں اسکول پرنسپل کے بہیمانہ قتل کی واردات نے پورے علاقے کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ پولیس نے اس سنسنی خیز قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے دو دسویں جماعت کے طالب علموں کو گرفتار کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے رقم حاصل کرنے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی خواہش میں قتل کی منصوبہ بندی کی اور پرنسپل کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت کلو روپا ریڈی کے طور پر ہوئی ہے، جو ناگرجنا پبلک اسکول کی پرنسپل اور ڈائریکٹر تھیں۔
روپا ریڈی 12 اگست کی صبح اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کے جسم پر چاقو کے 27 وار کے نشانات موجود تھے۔ ان کے شوہر حیدرآباد میں تھے اور مسلسل فون کرنے کے باوجود جب روپا ریڈی نے فون نہیں اٹھایا تو انہوں نے پڑوسیوں سے رابطہ کیا۔ پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد گھر سے لاش برآمد ہوئی۔
قتل کے بعد پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد، فنگر پرنٹس، تکنیکی معلومات اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ پولیس نے 80 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ بھی کی۔
اس پیچیدہ کیس میں پولیس کو ایک انتہائی اہم سراغ اس وقت ملا جب تفتیش کاروں نے روپا ریڈی کی قتل سے قبل ہونے والی آخری فون گفتگو کا جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران ان کی زبان سے ’’بابو‘‘ کا لفظ نکلا تھا۔ یہی معمولی سا لفظ پولیس کے لیے غیر معمولی سراغ بن گیا۔
پولیس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ روپا ریڈی نے ’’بابو‘‘ کس کے لیے کہا تھا۔ اسی بنیاد پر تفتیش اسکول کے طلبہ تک پہنچی۔ پولیس نے انفرادی طور پر طلبہ سے پوچھ گچھ شروع کی اور پانچ ایسے دسویں جماعت کے طلبہ پر توجہ مرکوز کی جو واردات کے بعد اسکول سے غیر حاضر تھے۔ ان میں سے دو طلبہ کے بارے میں پولیس کو معلوم ہوا کہ وہ اچانک غیر معمولی طور پر رقم خرچ کر رہے تھے اور دوستوں کے لیے پارٹیاں بھی کر رہے تھے۔
بالآخر پولیس نے بدھ کی صبح دونوں طلبہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش دونوں نے روپا ریڈی کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے اور واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
پولیس کے مطابق دونوں طلبہ پہلے بھی روپا ریڈی کی جانب سے تادیبی کارروائی کا سامنا کر چکے تھے۔ ان کے ہاسٹل بیگ سے نقد رقم اور موبائل فون برآمد ہونے کے بعد پرنسپل نے انہیں سرزنش کی تھی اور ان کے والدین کو اطلاع دی تھی۔ بعد ازاں دونوں طلبہ کو ہاسٹل سے نکال کر ڈے اسکالر بنا دیا گیا تھا۔
پولیس کو شبہ ہے کہ اس کارروائی سے طلبہ کے اندر پرنسپل کے خلاف ناراضی اور انتقام کا جذبہ پیدا ہوا، جس نے بعد میں رقم حاصل کرنے کی خواہش کے ساتھ مل کر خطرناک منصوبے کی شکل اختیار کرلی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے قتل اور چوری کی منصوبہ بندی تقریباً پانچ دن تک کی۔ انہوں نے روپا ریڈی کے گھر کی ریکی کی اور واردات کے لیے چاقو اور دستانے خریدے تاکہ شناخت اور فنگر پرنٹس سے بچا جا سکے۔
واردات کے روز ایک طالب علم نے بندر ٹوپی اور دستانے پہن کر گھر میں داخل ہو کر تقریباً 2.50 لاکھ روپے نقد تلاش کیے۔ تاہم فرار ہوتے وقت اس کی ٹوپی سر سے پھسل گئی اور روپا ریڈی نے اسے پہچان لیا۔ پولیس کے مطابق شناخت ظاہر ہوجانے کے خوف سے ملزم نے روپا ریڈی پر چاقو سے 27 وار کر دیے، جس کے نتیجے میں ان کی موت ہوگئی۔
قتل کے بعد ملزمان نقد رقم لے کر فرار ہوگئے اور ثبوت مٹانے کے لیے خون آلود کپڑوں اور ٹوپی کو دفن کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد دونوں نے گوا جانے کا منصوبہ بھی بنایا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 1.54 لاکھ روپے نقد، خون کے داغ والے بعض کرنسی نوٹ، مقتولہ کا فون اور ملزمان کی جانب سے خریدے گئے ایک آئی فون سمیت دیگر شواہد برآمد کیے۔
پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزمان نے واردات سے قبل ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر جلدی پیسہ کمانے کے طریقے تلاش کیے تھے۔ یہ واقعہ نہ صرف نلگنڈہ بلکہ پورے تلنگانہ میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی تربیت، سوشل میڈیا کے اثرات، بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور تعلیمی اداروں میں طلبا کی نگرانی کے حوالے سے بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
پولیس کی جانب سے ’’بابو‘‘ جیسے بظاہر معمولی لفظ کو سراغ بنا کر کیس کی تہہ تک پہنچنا اس تفتیش کا ایک اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم چونکہ معاملہ نابالغ طلبا سے متعلق ہے، اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی اور آئندہ عدالتی مراحل میں نابالغوں سے متعلق قانون کی دفعات لاگو ہوں گی۔


