نیپال میں انتہائی خوفناک و تباہ کن سیلاب: سینکڑوں افراد کے بہہ جانے اور متعدد ہلاکتوں کا خدشہ! بہار اور اترپردیش میں الرٹ (وائرل خوفناک ویڈیوز دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) نیپال کے شمالی علاقوں میں بدھ کے روز آنے والے شدید اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ بھوٹے کوشی دریا میں آنے والے سیلاب کے باعث متعدد دیہات، سڑکیں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ تازہ اطلاعات کے مطابق کم از کم 19 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 105 ہندوستانی شہریوں سمیت 384 سیاح اور دیگر مسافر لاپتہ ہیں۔

ابتدائی اطلاعات میں سینکڑوں افراد کے بہہ جانے اور بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ویڈیوز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ سیلاب کی زد میں آکر پانی بہہ گئے اور بڑے پیمانہ پر تباہی دیکھی گئی۔

سیلابی پانی تبت کی جانب سے آنے کے بعد نیپال کے رسوا، نواکوٹ اور دھادنگ سمیت متعدد علاقوں میں داخل ہوا۔ شدید ریلے نے کئی آبادیوں کو متاثر کیا اور متعدد مقامات پر سڑکیں اور پل بہہ گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تباہی کی مکمل شدت کا اندازہ لگانے کا کام ابھی جاری ہے۔

نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 384 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ غیر ملکی لاپتہ افراد میں 105 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور ٹریول ایجنسیوں، مقامی انتظامیہ، گائیڈز اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ان کی تصدیق کی جارہی ہے۔

لاپتہ افراد میں نیپال پولیس کے 26 اہلکار اور آرمڈ پولیس فورس کے 7 اہلکار بھی شامل ہیں۔ نیپالی فوج نے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر اور ڈیزاسٹر رسپانس ٹیمیں تعینات کردی ہیں۔ سیلاب کی شدت کا اندازہ ان ویڈیوز سے لگایا جاسکتا ہے جن میں بھوٹے کوشی دریا کا تیز رفتار اور مٹی سے بھرا پانی پلوں اور عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ شدید سیلابی ریلے نے ایک پل کو تقریباً 30 سیکنڈ میں اپنی گرفت میں لے کر بہا دیا۔ رسوا کے تِمُرے بازار اور چین سے ملحق سرحدی کسٹمز علاقے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب نے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق چھ بڑے ہائیڈرو پاور اور ٹرانسمیشن مراکز متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث بجلی کی پیداوار، ترسیل اور فراہمی میں خلل پڑا ہے۔ کئی اہم شاہراہیں بھی بند کردی گئی ہیں۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد بھارت کے بہار اور اترپردیش میں بھی احتیاطی اقدامات تیز کردیئے گئے ہیں، کیونکہ نیپال سے آنے والے کئی اہم دریا بھارتی علاقوں میں داخل ہوتے ہیں۔ بہار حکومت نے گنڈک دریا کے بالائی کیچمنٹ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کو صورتحال کی مسلسل نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ سمرت چودھری نے بھی افسران کے ساتھ اجلاس کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی بہار کے وزیر اعلیٰ سے بات کرکے ریاست کی تیاریوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ بہار کا محکمہ صحت بھی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومت نے گنڈک دریا کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دریا کے قریب نہ جائیں، افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف انتظامیہ کی جانب سے جاری سرکاری اطلاعات پر اعتماد کریں۔

اترپردیش میں بھی مہاراج گنج اور کشی نگر اضلاع کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مقامی انتظامیہ کو گنڈک اور ناراینی دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے پیش نظر مکمل طور پر چوکس رہنے اور ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔

نیپال سے ہندوستان میں داخل ہونے والے اہم دریاؤں میں گنڈک، کوسی، گھاگھرا، شاردہ اور راپتی شامل ہیں۔ موجودہ صورتحال میں خاص طور پر گنڈک کے پانی میں اچانک اضافے کے خدشے کے پیش نظر بہار میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ نیپال پولیس نے تریشولی دریا کے کنارے واقع نواکوٹ، دھادنگ، چتوان اور گورکھا سمیت مختلف علاقوں کے رہائشیوں کو بھی انتہائی محتاط رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

ویڈیوز دیکھنے کےلئے لنکس پر کلک کریں:
https://x.com/iNikhilsaini/status/2092558888751284687/video/1

اپنا تبصرہ بھیجیں