حیدرآباد (دکن فائلز) اڈیشہ کے دارالحکومت بھونیشور میں ایک مسلم جوڑے کو مبینہ طور پر گائے کے گوشت رکھنے کے الزام میں خود کو گاؤ رکشک قرار دینے والے افراد نے روک کر ہراساں کیا اور ان سے مبینہ طور پر گھٹنے ٹکوا کر جئے شری رام اور جئے گاؤ ماتا کے نعرے لگوائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 19 اگست کو پیش آیا تھا، جبکہ واقعے کی ویڈیو 23 اگست کو سوشل میڈیا پر سامنے آئی۔ ویڈیو کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایک گروپ نے جوڑے کو گھیر لیا اور ان سے مبینہ طور پر کان پکڑنے اور گھٹنے ٹیکنے کو کہا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک شخص کو مبینہ طور پر جوڑے سے کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جئے شری رام اور جئے گاؤ ماتا بولو۔ رپورٹ کے مطابق جوڑے نے صورتحال سے بچنے کے لیے ان مطالبات کی تعمیل کی۔
ویڈیو میں مبینہ طور پر گاؤ رکشک گروپ کے افراد نعرے لگاتے اور واقعے کی ویڈیو بناتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض مقامی افراد بھی نعرے بازی میں شامل ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق جوڑے کو اس وقت تک مبینہ طور پر ہراساں اور تذلیل کی گئی، جب تک پولیس اہلکار موقع پر نہیں پہنچے۔ پولیس کے پہنچنے کے بعد صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی گئی۔
خود کو گاؤ رکشک قرار دینے والے ہندوتوا شدت پسندوں نے جوڑے پر گائے کا گوشت لے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم دستیاب رپورٹوں میں اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق یا یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مبینہ طور پر برآمد کیے گئے مواد کی باقاعدہ جانچ کا نتیجہ کیا نکلا۔
اڈیشہ میں اوڈیشہ پریوینشن آف کاؤ سلاٹر ایکٹ 1960 کے تحت گائے کے ذبیحے پر پابندیاں موجود ہیں۔ ریاست کی بی جے پی حکومت نے موجودہ قانون کی جگہ مزید سخت قانونی فریم ورک لانے کا بھی اعلان کیا ہے۔تاہم، کسی شخص پر غیر قانونی سرگرمی کا شبہ ہونا قانون کو ہاتھ میں لینے یا عوامی سطح پر اسے ذلیل کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ ایسے معاملات میں الزام کی باقاعدہ تحقیقات اور قانونی کارروائی متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/trtworld/status/2091840497983578175/video/1
واقعہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے مسلم جوڑے کو ہراساں کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کو ظلم و ستم کی انتہا قرار دیا۔


