بارود اور ملبے کے ڈھیر پر استقامت کا عَلم: صہیونی بربریت کے تین سال اور اہلِ غزہ کی لازوال شجاعت و شہادت کا سفر (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) تاریخ گواہی دیتی ہے کہ حریت کی جنگیں کسی ایک صبح جنم نہیں لیتیں اور نہ ہی مظلوموں کی چیخیں کسی ایک تاریخ کی محتاج ہوتی ہیں۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جب غزہ کی قید تنہائی سے آزادی کی للکار اٹھی، تو قابض صہیونی ریاست اور اس کے پشت پناہ سامراج نے شاطرانہ انداز میں تاریخ کا آغاز اسی ایک دن سے جوڑنے کی ناپاک کوشش کی۔ مقصد واضح تھا: دہائیوں کے جبر، 75 برسوں کی جلاوطنی اور لگ بھگ بیس سالہ سفاکانہ محاصرے کو چھپا کر اپنے مجرمانہ چہرے پر مظلومیت کا نقاب چڑھایا جائے۔ مگر سچائی کو بارود کے دھوئیں سے دھندلایا نہیں جا سکتا۔ سات اکتوبر نہ تو کسی خلا میں جنم لینے والا واقعہ تھا اور نہ ہی کہانی کا آغاز؛ یہ تو اس طویل گھٹن، مقبوضہ بیت المقدس کی بے حرمتی، بستیوں کے پھیلاؤ اور قید خانوں میں سسکتے ہزاروں بے گناہ اسیروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کا ناگزیر آتش فشاں تھا۔

صہیونی سفاکیت کا ننگا ناچ: عصرِ حاضر کی بدترین نسل کشی
گزشتہ تین برسوں کے دوران قابض اسرائیل نے بربریت، جنگی جنون اور درندگی کی وہ تاریخ رقم کی ہے جس پر انسانیت کا سر ہمیشہ شرم سے جھکا رہے گا۔ ہسپتالوں پر دانستہ بمباری، پناہ گزینوں کے خیموں کو راکھ کا ڈھیر بنانا، نومولود بچوں کے انکیوبیٹرز کی بجلی کاٹنا، اور خوراک و ادویات کو بطور ہتھیار استعمال کر کے قحط مسلط کرنا—یہ وہ جنگی جرائم ہیں جن کا ارتکاب کسی باقاعدہ فوج نے نہیں بلکہ ایک فاشسٹ جنونی ٹولے نے کیا۔

رہائشی علاقوں کو قبرستان بنانے والے بارودی طوفان نے ہزاروں خاندانوں کے شجرۂ نسب ہی مٹا دیے۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کے کٹہرے میں کھڑے ہونے اور عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے نیتن یاہو اور اس کے گماشتوں کے جنگی جرائم پر وارنٹ جاری ہونے کے باوجود، مغربی اسلحے اور آشیرواد سے لیس قابض فوج نے ثابت کر دیا کہ اس کے نزدیک نہ بین الاقوامی قوانین کی کوئی حرمت ہے اور نہ ہی انسانی جان کی کوئی قیمت۔ اس بربریت کا مقصد صرف ایک عسکری گروہ کو شکست دینا نہیں تھا، بلکہ پورے غزہ کو انسانوں کے رہنے کے ناقابل بنا کر ایک تاریخی نسلی صفائی کو عملی جامہ پہنانا تھا۔

ارضِ غزہ کا اعجاز: بے مثل شجاعت، فولادی عزم اور شہادت کا جذبہ
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جہاں جبر اپنے عروج پر پہنچا، وہیں اہلِ غزہ کی ہمت، شجاعت اور صمود (ڈٹ جانے کا عزم) نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

جب فضاؤں سے جدید ترین بمبار طیارے آگ برسا رہے تھے اور زمین پر فولادی ٹینک معصوم بستیوں کو روند رہے تھے، تب ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے غزہ کے غیور باسیوں کے لبوں پر خوف کے بجائے “حسبنا اللہ ونعم الوکیل” کے کلمات گونج رہے تھے۔ یہ وہ مائیں ہیں جنہوں نے اپنے لختِ جگروں کے بکھرے ہوئے لاشوں کو اپنے ہاتھوں سے کفن پہنایا اور آنسوؤں کو دبا کر مسکرا کر شہادت کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ وہ باپ ہیں جنہوں نے ملبے سے اپنے بچوں کے اعضا چنتے ہوئے بھی اپنی سرزمین کو چھوڑنے اور دوسری ہجرت کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

اہلِ غزہ نے ثابت کر دیا کہ شہادت ان کے لیے موت نہیں بلکہ حیاتِ جاوداں اور مزاحمت کی معراج ہے۔ ان کے سینوں میں موجزن ایمانی طاقت نے ٹیکنالوجی اور وحشت کے تمام بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ خیموں کی تپتی دھوپ، مکھیوں اور کیڑوں سے بھری بستیوں، اور پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ماحول میں بھی جس وقار اور خودداری کے ساتھ اس قوم نے صبر کا پہاڑ بن کر دکھایا، اس نے تاریخ کے سارے بہادروں کی داستانوں کو ماند کر دیا۔ فلسطینی نوجوانوں نے خالی ہاتھوں اور سادہ ہتھیاروں کے ساتھ جدید ترین اسلحے سے لیس قابض فوج کو جس طرح ناکوں چنے چبوائے، وہ داستانِ شجاعت آنے والی نسلوں کا نصاب بنے گی۔

سفارتی منافقت اور جھوٹے بیانیوں کی شکست
تین سال کے خونیں عرصے نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا بلکہ منافقت کا نقاب اوڑھے عالمی ضمیر کو بھی بے نقاب کر دیا۔ وہ نام نہاد امن اور معمول پر لانے کے معاہدے، جن کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو دفن کرنے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں، ان کا شیرازہ بکھر گیا۔ غزہ کے لہو نے دنیا بھر کی جامعات، سڑکوں اور میدانوں میں انقلاب کی لہر دوڑا دی۔ آج مغرب کے ایوانوں سے لے کر عالمی عدالتوں تک، فلسطین کا نام ایک استعارہ بن چکا ہے—ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا استعارہ۔

اسرائیل کا سیکیورٹی طلسم ٹوٹ چکا ہے اور اندرونی بحران اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ عسکری طاقت کے بل بوتے پر غزہ کی مزاحمت کو مٹانے کا دعویٰ کرنے والی فوج تین سال بعد بھی ذلت، بداعتمادی اور شکست کے خوف میں مبتلا ہے، جبکہ اپنے پیاروں کو قربان کرنے والی قوم سر اٹھا کر کہتی ہے کہ آزادی کی قیمت چاہے کتنی ہی بھاری ہو، وہ اپنی مٹی کا سودا کبھی نہیں کریں گے۔


نہ جھکے ہیں، نہ بکیں گے
!
سات اکتوبر کہانی کا اختتام تھا اور نہ ہی کوئی الگ تھلگ ورق، بلکہ یہ صدیوں کے ظلم کے خلاف لکھی جانے والی وہ پکار ہے جس نے غاصبوں کے ایوان ہلا دیے۔

صہیونی بربریت نے غزہ کی ہر اینٹ کو گرا دیا، اسپتالوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور ہنستے بستے گلشن کو راکھ کر دیا، مگر وہ اہلِ فلسطین کے جذبۂ شہادت اور آزادی کے خواب کو راکھ نہ کر سکی۔ ٹینک واپس مڑ سکتے ہیں، گولہ بارود ختم ہو سکتا ہے، سامراجی طاقتیں تھک سکتی ہیں، مگر جس مٹی کو شہداء کے پاکیزہ لہو سے سینچا گیا ہو، وہاں سے صرف ایک ہی فصل اگتی ہے—اور وہ فصل ‘آزادی اور فتح’ کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں