حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی فلم اور تھیٹر انڈسٹری کے نامور و کثیر الجہت اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ وہ گوا میں اپنی رہائش گاہ پر بے ہوش پائے گئے تھے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر قریبی نجی ہسپتال لے جایا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اطلاعات کے مطابق نانا پاٹیکر گوا کے علاقے ڈونا پاؤلا (Dona Paula) میں واقع اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے جہاں صبح سویرے اچانک ان کی طبعیت بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے تقریباً 45 منٹ تک مسلسل سی پی آر (CPR) دے کر ان کی زندگی بچانے کی کوشش کی، لیکن وہ دم توڑ چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے صبح 5:20 بجے ان کے انتقال کی باضابطہ تصدیق کی۔
چار دہائیوں پر محیط یادگار فنی سفر
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر میں پیدا ہونے والے وشواناتھ پاٹیکر (المعروف نانا پاٹیکر) نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1978 کی فلم گمن (Gaman)سے کیا۔ اپنے منفرد مکالماتی انداز، پرجوش اداکاری اور گہری تاثراتی صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے ہندی اور مراٹھی سنیما میں اپنا ایک الگ اور انمٹ مقام بنایا۔
ان کے فنی کیریئر کے نمایاں سنگ میل درج ذیل ہیں:
اہم فلمیں:پرندہ (1989)، انگار (1992)، ترنگا (1993)، کرانتی ویر (1994)، پرہار (1991)، اگنی ساکشی (1996)، خاموشی (1996)، اب تک چھپن (2004)، اپہرن (2005)، ویلکم (2007)، راج نیتی (2010) اور مراٹھی شاہکار فلم نٹ سمراٹ (2016)۔
منفرد ریکارڈ: نانا پاٹیکر بھارتی سنیما کی تاریخ کے وہ واحد اداکار ہیں جنہوں نے فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین اداکار (Best Actor)، بہترین معاون اداکار (Best Supporting Actor) اور بہترین منفی کردار (Best Villain) تینوں کیٹیگریز میں اعزازات حاصل کیے۔
قومی اعزازات: انہوں نے اپنی شاندار اداکاری پر 3 نیشنل فلم ایوارڈز جیتے اور فن و ثقافت کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں بھارتی حکومت نے انہیں 2013 میں چوتھے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے نوازا۔
سماجی خدمات اور فلاحی کام
نانا پاٹیکر نہ صرف ایک عظیم فنکار تھے بلکہ ایک ہمدرد انسان بھی تھے۔ انہوں نے مہاراشٹر میں خشک سالی اور مالی مشکلات کے شکار کسانوں کی مدد کے لیے “نام فاؤنڈیشن” (Naam Foundation) قائم کی، جس کے تحت خودکشی کرنے والے کسانوں کے اہل خانہ کو مالی امداد اور زرعی بحالی کے لیے کروڑوں روپے کے فلاحی کام انجام دیے گئے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ستمبر کے اواخر میں ایک خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے نواسے کی پیدائش کے موقع پر ایک مدرسہ کے استاد کو مدعو کرکے نومولود کے کان میں اذان دلوائی اور اذان کے پیغام و مفہوم سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا۔جائے نماز خریدیں
سوشل میڈیا پوسٹس کے علاوہ ایک پاکستانی ویب سائٹ نے بھی اس واقعے سے متعلق رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نانا پاٹیکر نے مبینہ طور پر اذان کے معنی اور ترجمے کے بارے میں جاننے کے بعد اسے روحانی سکون کا باعث قرار دیا اور اسی وجہ سے اپنے نواسے کی پیدائش پر اس کی سماعت کے لیے اذان کا اہتمام کیا۔ تاہم، اس دعوے کی نانا پاٹیکر یا ان کے کسی باضابطہ نمائندے کی جانب سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
وائرل ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نانا پاٹیکر نے اذان کا مفہوم اور ترجمہ سمجھنے کے بعد اس کے پیغام کو انتہائی متاثر کن پایا۔ مبینہ طور پر انہوں نے اذان میں موجود روحانی پیغام اور اس سے حاصل ہونے والے سکون کا ذکر کیا اور نومولود کے لیے اس عمل کا اہتمام کیا۔


