مسلم خواتین کی نیلامی ایپ مقدمہ میں ملزم بری! خواتین کے خلاف نفرت اور ہراسانی کے جرائم میں ملوث درندوں کے خلاف احتساب نہ ہونا انصاف کے تقاضوں کے منافی

حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کی ایک عدالت نے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے اور ان کی توہین آمیز غیر قانونی بولی لگانے کے لیے بنائی گئی بدنام زمانہ اوپن سورس ایپلی کیشن کے مبینہ خالق اور ملزم کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر مقدمے سے ڈسچارج (بری) کر دیا ہے۔ عدالت کے مطابق استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے ضروری اور ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔

سوشل میڈیا اور گٹ ہب (GitHub) کے ذریعے منظرِ عام پر آنے والی اس ایپلی کیشن میں درجنوں ممتاز مسلم خواتین، جن میں صحافی، ریسرچرز، طالبات اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکنان شامل تھیں، کی ذاتی تصاویر چرا کر ان کی تضحیک آمیز جعلی نیلامی کی گئی تھی۔ اس ہتک آمیز مہم کا مقصد مسلم خواتین کو ہراساں کرنا، ان کی کردار کشی کرنا اور ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا تھا۔ ملک بھر میں سول سوسائٹی کے شدید احتجاج کے بعد دہلی اور ممبئی پولیس کے سائبر سیلز نے مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے گرفتاریاں کی تھیں۔

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ اور تفتیشی ادارے ملزم کے خلاف وہ بنیادی اور ناقابلِ تردید تکنیکی شواہد عدالت کے روبرو پیش نہیں کر سکے جو اسے براہِ راست اس ایپلی کیشن کی کوڈنگ، تیاری یا سوشل میڈیا مہم سے منسلک کر سکیں۔ فارنزک رپورٹوں اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ریکارڈ میں تسلسل اور ثبوت کے فقدان کے باعث عدالت نے ملزم کے خلاف باضابطہ فردِ جرم عائد کیے بغیر اسے کیس سے خارج کر دیا۔

اس فیصلے نے جہاں پولیس تفتیش کے غیر معیاری طریقہ کار اور ڈیجیٹل فرانزک کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، وہیں متاثرہ خواتین اور قانونی ماہرین نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر خواتین کے خلاف منظم نفرت اور ہراسانی کے جرائم میں ملوث عناصر کا احتساب نہ ہونا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں