گیانواپی مسجد تنازعہ سے متعلق عرضی پر وارانسی عدالت کے جج نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے درخواست کو منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب گیانواپی مسجد میں پائے گئے فوارے کی ہی نہیں بلکہ مسجد کے پورے احاطہ کا آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے سروے کیا جاسکتا ہے۔
گیانواپی مسجد کے تمام احاطہ کا سروے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دائر عرضی کو ضلعی عدالت نے منظور کرلیا ہے جبکہ عدالت نے مسلم فریق کو اس کے خلاف اعتراض درج کرنے کے لیے 19 مئی تک کا وقت دیا ہے۔ عدالت میں اب اس معاملہ کی آئندہ ساعت 22 مئی کو ہوگی۔
واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ وارانسی کی گیانواپی مسجد میں پائے گئے ڈھانچہ کا سائنسی سروے کیا جا سکتا ہے جسے ہندو فریق کی جانب سے شیولنگ قرار دیا جارہا ہے جبکہ مسلم فریق اسے فوارہ کہہ رہے ہیں۔
مقامی عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعہ گیانواپی مسجد کمپلیکس کے سروے کی درخواست پر سماعت کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔


