حیدرآباد (دکن فائلز) رام مندر کی افتتاحی تقریب کے نام پر تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں اشرار کی جانب سے ننگا ناچ کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگاریڈی کے دولت آباد میں اشرار نے جے ایس آر کے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسلم شخص کی دکان کو آگ لگادی اور دیگر مقامات پر مساجد کے سامنے شرانگیزی کی گئی۔ شرانگیز نعروں کے ساتھ ڈی جے پر دل آزار گانے بجائے گئے۔ اطلاع ملنے پر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ قائم کیا اور خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ اسدالدین اویسی کے علاوہ مجلس کے دیگر ارکان اسمبلی نے رات دیر گئے تک حالات پر نظر بنائی رکھی اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے وہ برابر رابطہ میں تھے۔
AIMIM President Br @asadowaisi speaking to the families members and coordinating with AIMIM Sanga Reddy Unit for safe passage of Muslim families from Dulatabad.
Under police protection families are now moved to safer areas. pic.twitter.com/iIKDk8A58K
— Kausar Mohiuddin (@kausarmohiuddin) January 22, 2024
تفصیلات کے مطابق سنگاریڈی کے دولت آباد میں 22 جنوری کی شام اشرار نے محمد غوث کی پھلوں کی دوکان پر حملہ کرکے اسے نذرآتش کردیا۔ یہ واقعہ اشرار کی جانب سے نکالے گئے جلوس کے دوران پیش آیا۔ جلوس کے دوران اچانک کچھ شرپسندوں نے غوث کی دوکان پر حملہ کردیا۔ قریب میں واقع ایک اور دوکان کو بھی اشرار نے نقصان پہنچایا۔
Arson & Provocative sloganeering reminding Muslims of Pakistan by unruly mob in Doultabad, Sangareddy.
AIMIM President Br @asadowaisi speaking to higher officials in police department to ensure strict action against the culprits.
AIMIM team on ground to ensure peace prevails. pic.twitter.com/fVkPn7bGUQ
— Kausar Mohiuddin (@kausarmohiuddin) January 22, 2024
آج اشرار کے حوصلے اتنے بلند تھے کہ انہیں پولیس کا ذرا برابر بھی خوف نظر نہیں آیا۔ اطلاع کے مطابق نہ صرف اشرار نے محمد غوث پر حملہ کیا بلکہ انہیں جب علاج کےلئے ایمبولنس کے ذریعہ حیدرآباد منتقل کیا جارہا تھا تب سنگاریڈی سے پٹن چیرو تک کچھ غنڈوں نے ایمبولنس کا پیچھا کیا اور شرانگیز نعرے لگارہے تھے، ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ دوبارہ محمد غوث پر حملہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح سنگاریڈی کے مختلف علاقوں میں شرپسندوں کی جانب سے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔
Receiving reports of disturbances from Koshgi Jama Masjid Kodangal & Daulatabad, Narasapura in Sanga Reddy.
AIMIM President Br @asadowaisi spoke to SP Sanga Reddy, instructed him to take strict action against the trouble mongers . AIMIM Sanga Reddy team is on the spot.
I spoke… pic.twitter.com/gaYCCCTRXp
— Kausar Mohiuddin (@kausarmohiuddin) January 22, 2024
ایک اور اطلاع کے مطابق کوسگی کوڑنگل میں بھی غنڈہ صفت عناصر نے مسجد کے سامنے شرانگیز نعرے لگائے اور ہنگامہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقامی افراد نے حالات کو پرامن رکھنے کےلئے اشرار کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن شرپسند عناصر حالات کو بگاڑنے کےلئے کوشاں تھے۔ بعدازاں مجلس کے رکن اسمبلی کوثر محی الدین نے نارائن پیٹ ایس پی سے رابطہ قائم کیا اور حالات سے واقف کروایا۔ ایس پی نے اشرار کے خلاف کاروائی کا تیقن دیا۔ وہیں کوثر محی الدین نے بتایا کہ تلنگانہ کے مختلف علاقوں خاص کر چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں اشرار کی جانب سے ماحول کو بگاڑنے اور مسلمانوں میں دہشت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد علاقوں سے کئی افراد نے ان سے رابطہ کیا اور شرانگیز کاروائیوں سے واقف کروایا۔ انہوں نے عوام سے صبر و تحمل سے رہنے کی اپیل کی۔
ایسا لگتا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے ماحول بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کانگریس حکومت کو بدنام کیا جاسکے اور آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ہندو ووٹر کو پولورائز کرکے ناجائز و ناپاک سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔


