حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر محمد شامی، جنہوں نے عالمی سطح پر اپنی شاندار کارکردگی سے ملک کا نام روشن کیا، کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے شامی اور ان کے بھائی محمد کیف کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت سماعت کے لیے طلب کیا ہے، جس کا آغاز گزشتہ برس 16 دسمبر کو مغربی بنگال میں کیا گیا تھا۔
یہ نوٹس پیر کے روز جنوبی کولکاتا کے جادوپور علاقے میں واقع کارتجو نگر اسکول سے جاری کیے گئے، جن میں دونوں بھائیوں کو اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (AERO) کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم شامی مقررہ تاریخ کو سماعت میں شریک نہیں ہو سکے، کیونکہ وہ اس وقت راجکوٹ میں وجے ہزارے ٹرافی میں بنگال کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق محمد شامی اور ان کے بھائی کے نام سماعتی فہرست میں اس لیے شامل ہوئے کیونکہ ان کے انیومریشن فارمز میں *پروجینی میپنگ* اور *سیلف میپنگ* سے متعلق مبینہ تضادات پائے گئے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا یہ واقعی سنگین بے ضابطگیاں ہیں یا محض تکنیکی نوعیت کی خامیاں، جنہیں معمول کی اصلاح کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا؟
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ شامی کولکاتا میونسپل کارپوریشن (KMC) کے وارڈ نمبر 93 میں بطور ووٹر درج ہیں، جو راش بہاری اسمبلی حلقے میں آتا ہے۔ اگرچہ ان کی پیدائش اتر پردیش کے امروہہ میں ہوئی، مگر وہ کئی برسوں سے مستقل طور پر کولکاتا میں مقیم ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں شامی نے اپنے آبائی گاؤں امروہہ میں ووٹ ڈالا تھا، جو بذاتِ خود انتخابی قوانین کے تحت ممکن ہے، بشرطیکہ ووٹر فہرستوں میں درست اندراج موجود ہو۔
یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں SIR کے بعد شائع ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے 58.21 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ دعوے، اعتراضات اور سماعتوں کا عمل جاری ہے، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 14 فروری کو شائع ہونی ہے۔
اسی پس منظر میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک سخت لہجے میں خط لکھ کر SIR کے مقاصد، طریقۂ کار اور شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ریاستوں میں مختلف معیار اور غیر واضح ٹائم لائنز اپنائی جا رہی ہیں، جس سے پورے عمل پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ ممتا بنرجی نے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی غلطی یا ابہام حقیقی ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے، جو ایک آئینی جمہوریت میں ناقابلِ قبول ہے۔
محمد شامی کے علاوہ معروف بنگالی اداکار اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان دیو (دیپک ادھیکاری) کو بھی SIR سماعت کا نوٹس موصول ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے خاندان کے تین دیگر افراد کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں، حالانکہ سماعت کی تاریخ اور وقت تاحال واضح نہیں۔ ترنمول کانگریس نے اس اقدام کو ایک منتخب عوامی نمائندے کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ پورا معاملہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے:
کیا انتخابی فہرستوں کی تطہیر کے نام پر ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
کیا تکنیکی خامیوں کو غیر ضروری سماعتوں اور نوٹسز میں بدل کر عوامی اعتماد کو مجروح کیا جا رہا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا لاکھوں ناموں کی حذف شدگی واقعی شفاف اور منصفانہ طریقے سے ہو رہی ہے؟
فی الحال نہ محمد شامی اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔ آئندہ سماعت 9 سے 11 جنوری کے درمیان متوقع ہے۔ اس وقت تک یہ معاملہ صرف ایک کرکٹر کا نہیں بلکہ انتخابی نظام کی شفافیت اور ساکھ کا امتحان بن چکا ہے۔


