حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائیکورٹ نے بریلی میں نجی گھر کے اندر جمعہ کی نماز ادا کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح طور پر کہا کہ کسی شخص کو اپنی زمین یا نجی رہائش گاہ کے اندر اجتماعی عبادت کے لیے حکومت سے پیشگی اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بنچ نے سوال اٹھایاکہ “آخر کوئی شخص اپنے ہی گھر یا اپنی ہی زمین پر نماز ادا کرنے کے لیے ریاست سے اجازت کیوں طلب کرے؟”
یہ معاملہ 16 جنوری 2026 کو بریلی کے علاقے محمدگنج میں پیش آیا، جہاں چند افراد ایک نجی مکان میں جمع ہو کر جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ نماز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا اور بعض افراد کو مختصر طور پر حراست میں بھی لیا گیا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
اس اقدام پر ملک بھر میں تنقید ہوئی اور سوال اٹھایا گیا کہ اگر عبادت نجی حدود کے اندر ہو رہی ہو اور اس سے عوامی نظم میں کوئی خلل نہ پڑ رہا ہو تو پولیس کارروائی کس بنیاد پر کی گئی؟
طارق خان نامی شہری نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ایف آئی آر اور حراست کو چیلنج کیا۔ اپنی درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے غیر قانونی کارروائی کی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ریاست نے شہریوں کو ان کے بنیادی حقِ مذہبی آزادی سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے۔
عدالت نے یاد دلایا کہ اس سے قبل عیسائیوں کی نجی عبادتی اجتماعات سے متعلق ایک مقدمہ میں بھی یہی اصول طے کیا گیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی اجتماع منعقد کرنا غیر قانونی نہیں اور اس کے لیے پیشگی اجازت درکار نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہی اصول جمعہ کی نماز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
عدالت نے پولیس کی کارروائی کو سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ عدالتی ہدایات کو نظرانداز کیا گیا، جس پر توہینِ عدالت کا پہلو بنتا ہے۔ آئندہ سماعت 11 مارچ کو مقرر کی گئی ہے، جس میں ایس ایس پی اور ڈی ایم کو اپنا جواب پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں نامزد ایک شخص نے کہا، “ہم نے صرف ایک گھر کے اندر نماز ادا کی تھی، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ عدالت کے فیصلے نے ہمارے انصاف پر اعتماد کو بحال کیا ہے۔”
کمیونٹی کے افراد کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ رمضان کے پیش نظر خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جب متعدد خاندان اپنے گھروں میں تراویح کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک مقامی شہری کے مطابق، “اب عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ اپنے گھر میں عبادت کرنا جرم نہیں ہے۔”
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین شہریوں کو مذہب پر عمل اور اس کے اظہار کا حق دیتا ہے، بشرطیکہ عوامی نظم و نسق متاثر نہ ہو۔ اس کیس نے پولیس اختیارات کی حدود اور مذہبی آزادی کے آئینی حق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اب سب کی نظریں 11 مارچ کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں ضلعی حکام کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ نجی گھر میں عبادت کرنے والے شہریوں کے خلاف کارروائی کیوں کی گئی۔


