حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے علاقہ عنبرپیٹ میں واقع جامع مسجد کے قریب جمعرات کی شام نماز تراویح کے دوران مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران پولیس کی موجودگی میں نکالے گئے شیواجی جلوس کو مسجد کے سامنے غیرضروری روک کر انتہائی شدید آواز میں ڈی جے لگایا گیا اور شرانگیز نعرے لگائے گئے، جس کے بعد کچھ دیر کےلئے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔
پولیس نے جب جلوس کو آگے جانے کا مشورہ دیا تو جلوس میں شامل شدت پسندوں نے ہنگامہ کیا اور کرنا اور نعرے لگاتے ہوئے حالات کو بگاڑنے کی بھرپور کوشش کی تاہم مقامی مسلمانوں نے انتہائی صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں پولیس نے حالات کو بے قابو ہونے سے روک دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کچھ عناصر نے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی، تاہم مقامی مسلمانوں نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بڑے تصادم کو ٹال دیا۔ دوسری جانب مسجد کمیٹی اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسجد میں رمضان المبارک کے دوران نمازِ تراویح ادا کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق مسجد کے سامنے جلوس کو روک کر بلند آواز میں گانے بجائے گئے اور نعرے بازی سے عبادت میں خلل پڑا، جس پر اعتراض کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی دیکھی جا سکتی ہے۔
مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ بعض اشرار نے دانستہ طور پر اشتعال انگیزی کی کوشش کی، مگر مسلمانوں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو بگڑنے نہیں دیا۔ مسجد کمیٹی نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ مذہبی مقامات کے قریب اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔
پولیس کے رویہ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر اسی نوعیت کا واقعہ کسی مسلم جلوس کے دوران پیش آتا تو ممکنہ طور پر درجنوں بلکہ سینکڑوں نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے جاتے اور گرفتاریاں عمل میں آتیں۔ ان کے مطابق موجودہ معاملے میں اب تک کوئی نمایاں قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ پولیس نرم رویہ اختیار کر رہی ہے۔
چند سماجی کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قانون کا نفاذ اگر یکساں نہ ہو تو اس سے عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، چاہے معاملہ کسی بھی برادری یا جلوس سے متعلق ہو۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ ویڈیوز اور افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں۔ احتیاطی طور پر علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔


