مسلم شخص کی ایمانداری کے چرچے! حاجی اختر خان نے 10 تولے سونا اصل مالک کو لوٹا دیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ہریانہ کے شہر فریدآباد میں ایک مسلمان کباڑی تاجر نے غیر معمولی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 100 گرام (10 تولے) سونے کے زیورات ان کے اصل مالک کو واپس کر دیے، جن کی مالیت تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ایمانداری آج بھی زندہ ہے۔

کباڑ کا کاروبار کرنے والے حاجی اختر خان اپنے گودام میں سامان کی جانچ کر رہے تھے کہ انہیں کباڑ کے ڈھیر میں ایک پرانا ڈبہ نظر آیا۔ ڈبہ کھولنے پر معلوم ہوا کہ اس میں قیمتی سونے کے زیورات موجود ہیں۔ مزید جانچ کے بعد انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ زیورات اشوک شرما کے ہو سکتے ہیں، جو چند ماہ قبل کباڑ فروخت کر گئے تھے۔

واقعہ کی جڑیں جنوری 2024 سے ملتی ہیں، جب فریدآباد کے رہائشی اشوک شرما کمبھ میلے میں شرکت کے لیے اہلِ خانہ کے ساتھ پریاگ راج جا رہے تھے۔ گھر خالی ہونے کے سبب چوری کے خدشے سے انہوں نے تقریباً 10 تولے سونا ایک پرانے ڈبے میں رکھ کر کباڑ کے بورے میں چھپا دیا۔ واپسی کے بعد وہ اس بات کو بھول گئے۔ بعد ازاں دیوالی کی صفائی کے دوران وہی بورا انجانے میں کباڑ سمجھ کر فروخت کر دیا گیا۔

جب دیوالی پوجا کے وقت زیورات کی تلاش ہوئی تو خاندان کو اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا۔ اشوک شرما نے گودام جا کر تلاش بھی کی، مگر کامیابی نہ ملی اور خاندان شدید مایوسی کا شکار ہو گیا۔

چند ماہ بعد جب حاجی اختر خان کو وہ ڈبہ ملا تو انہوں نے بلا تاخیر زیورات واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا، “ہم حرام نہیں کھاتے، محنت کی کمائی میں ہی برکت ہے۔ کسی کی امانت اپنے پاس رکھنا ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔” ان کے اہلِ خانہ نے بھی اس فیصلے کی تائید کی۔

بعد ازاں ایڈیشنل کمشنر آف پولیس جتیش ملہوترا کی موجودگی میں زیورات اشوک شرما اور ان کے خاندان کے حوالے کر دیے گئے۔ شرما خاندان نے خان صاحب کی دیانت داری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ معاشرے کی اصل طاقت ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف ایمانداری کی مثال ہے بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کا بھی خوبصورت پیغام دیتا ہے، جو آج کے دور میں انتہائی قابلِ قدر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں