احمد آباد کے تاریخی چارٹودا قبرستان سے قبریں ہٹانے کا نوٹس! مسلمانوں مسلمانوں کا شدید ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے احمد آباد شہر کے گومتی پور علاقہ میں اس وقت شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے، جہاں احمد آباد میونسپل کارپوریشن نے تاریخی چارٹودا قبرستان سے تقریباً 300 قبریں منتقل کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ کارروائی روڈ ڈیولپمنٹ پلان کے تحت سڑک کو 30.5 میٹر چوڑا کرنے کے منصوبے کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔

تاہم مقامی مسلم باشندوں، منتخب نمائندوں اور وقف حکام نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے مذہبی جذبات، قانون اور تاریخ کے خلاف قرار دیا ہے۔ اے ایم سی کی جانب سے 25 دسمبر کو جاری کیے گئے نوٹس میں قبرستان کی باؤنڈری وال اور سینکڑوں قبروں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس نوٹس کے بعد ان خاندانوں میں شدید خوف اور صدمہ پھیل گیا ہے جن کے عزیز و اقارب دہائیوں سے یہاں مدفون ہیں۔

چارٹودا قبرستان صرف ایک تدفینی مقام نہیں بلکہ مشرقی احمد آباد کے مسلمانوں کی مذہبی اور تاریخی شناخت کی علامت ہے۔ اس قبرستان کے اندر واقع دادی مائی کا روزہ ایک قدیم درگاہ ہے، مقامی لوگوں کے مطابق 600 سال سے زائد پرانی یہ مزار ہے۔ یہ مقام نسلوں سے مسلمانوں کی عقیدت اور تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔

کلریئن انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اسلامی شریعت میں قبروں کی منتقلی کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ وہ ترقی، سڑکوں اور عوامی منصوبوں کے مخالف نہیں، لیکن ترقی کے نام پر قبروں کی بے حرمتی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ گومتی پور کے میونسپل کونسلر ذوالفقار خان پٹھان نے اس نوٹس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا، “اسلام میں قبروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔ ترقی ہونی چاہیے، لیکن اس انداز میں نہیں کہ مردوں کے آرام گاہوں کو نقصان پہنچایا جائے اور مذہبی جذبات مجروح ہوں۔”

انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ جنوری 2025 میں گجرات ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ قبرستان کے اندر کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ پٹھان نے کہا کہ “یہ زمین وقف ایکٹ کے تحت محفوظ ہے، جسے نہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔”

قبرستان میں دفن اپنے والد کے مزار کے پاس کھڑے ایوب بھائی نے دکھ بھری آواز میں کہا، “میرے والد 1997 میں یہاں دفن ہوئے تھے، میرے چچا اور خاندان کے دیگر بزرگ بھی یہیں مدفون ہیں۔ ہماری پوری خاندانی تاریخ اس قبرستان میں دفن ہے۔ ہم ترقی کے خلاف نہیں، لیکن قبروں کو ہٹانا ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔”

اسی طرح سلیم بھائی گھانچی نے کہا، “میرے والد کی قبر 1996 سے یہاں ہے۔ حکومت ہمیں قبریں ہٹانے کو کہہ رہی ہے، جبکہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ قبریں وہیں رہیں جہاں ہیں۔” اے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما شہزاد خان پٹھان ے اس اقدام کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا، “ایک طرف لوگوں کے گھر توڑے جا رہے ہیں، اور اب مردوں کی قبریں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان کو سکون سے دفن رہنے نہیں دیا جا رہا۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں