حیدرآباد (دکن فائلز) ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان تحقیقاتی صحافت کے معتبر پورٹل آرٹیکل 14 پر شائع ہونے والا یہ مضمون موجودہ حالات کی ایک تلخ مگر حقیقی تصویر پیش کرتا ہے۔ اردو قارئین کو بھی ان زمینی حقائق سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتے ہوئے اس مضمون کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دور حکومت میں بلڈوزر، جو کبھی تعمیرات اور تجاوزات ہٹانے کا ایک سرکاری آلہ تھا، آہستہ آہستہ ایک سیاسی ہتھیار میں تبدیل ہو گیا۔ یہ ہتھیار مبینہ طور پر جرائم کے خلاف کارروائی کے نام پر، مگر عملاً مسلمانوں کو اجتماعی سزا دینے، خوف پھیلانے اور سیاسی طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال ہونے لگا۔
یہ ماڈل جلد ہی ایک ’’قومی سانچہ‘‘ بن گیا، جسے بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کے ساتھ ساتھ کانگریس کی حکومت والی کرناٹک میں بھی اپنایا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس، سماعت اور باز آبادکاری سے متعلق ہدایات کے باوجود، اکثر انہدامی کارروائیاں عدالتی نگرانی کے بغیر انجام دی گئیں۔
اتر پردیش میں 2020 میں وکاس دوبے معاملے کے بعد بلڈوزر کو سرکاری طاقت کی علامت بنا دیا گیا۔ بعد ازاں، 2022 کے انتخابات میں ’’بلڈوزر بابا‘‘ ایک سیاسی برانڈ بن کر ابھرے۔ اس کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات کے بعد مسلمانوں کے مکانات اور دکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
کانپور، سہارنپور، جہانگیرپوری (دہلی)، مدھیہ پردیش، گجرات اور آسام جیسے علاقوں میں مسلمانوں نے بتایا کہ کس طرح بغیر کسی عدالتی فیصلے کے ان کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کارروائیوں کو ’’اجتماعی ماورائے عدالت سزا‘‘ قرار دیا۔
آرٹیکل 14 کے مطابق، بلڈوزر محض ایک مشین نہیں رہا بلکہ ایک ایسا سیاسی پیغام بن چکا ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے اور نشانہ کون ہے۔ یہ رجحان ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک سنگین چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ ایک اندازہ کے مطابق گذشتہ چار پانچ سالوں کے دوران ملک کی مختلف ریاستوں میں بلڈوزر جسٹس کے ذریعہ ہزاروں مسلمانوں کی کروڑوں روپئے کی املاک کو تباہ کردیا گیا جبکہ مساجد اور درگاہوں و دیگر مذہبی مقامات کو بھی فرقہ پرستی کے جنون میں مسمار کردیا گیا، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔


