کمال مولا مسجد ۔ بھوج شالہ میں جمعہ کے روز مسلمانوں کو نماز ادا اور ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت! سپریم کورٹ کا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولانا مسجد ۔ بھوج شالہ کمپلیکس میں مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کو جمعہ کے روز عبادت کی اجازت دی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے مطابق ہندو برادری بسنت پنچمی کے موقع پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک پوجا کر سکے گی، جبکہ مسلم برادری جمعہ کی نماز دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک ادا کرے گی۔

سپریم کورٹ نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے آنے والے مسلمانوں کی تعداد پیشگی طور پر ضلعی انتظامیہ کو فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ضلع انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے اور مناسب سکیورٹی انتظامات کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

قبل ازیں بسنت پنچمی سے دو دن قبل مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کی تھی کہ آثارِ قدیمہ کے محکمے (اے ایس آئی) کے سابقہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے دونوں برادریوں کو پرامن طور پر عبادت کا موقع فراہم کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی بسنت پنچمی جمعہ کے دن پڑ چکی ہے اور اس وقت مرکزی حکومت کے فیصلے کے مطابق دھار انتظامیہ نے دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے پرامن انتظامات کیے تھے۔

واضح رہے کہ متنازعہ مقام کو مسلمان کمال مولا مسجد قرار دیتے ہیں جبکہ ہندو اسے راجا بھوج کے دور میں دیوی واگدیوی کا مندر کہتے ہیں، 2003 میں طے پانے والے ایک انتظام کے تحت ہندوؤں کو ہر منگل اور بسنت پنچمی کے دن یہاں پوجا کی اجازت ہے، جبکہ مسلمان جمعہ کے روز نماز ادا کرتے ہیں۔

انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور اے ایس آئی کی سابقہ ہدایات کے مطابق تمام انتظامات کیے جائیں گے تاکہ دونوں برادریاں امن و سکون کے ساتھ اپنی مذہبی عبادات انجام دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:

جمعہ کی نماز پر پابندی کی عرضی! کمال مولا مسجد بھوج شالہ تنازع پھر سپریم کورٹ پہنچا

اپنا تبصرہ بھیجیں