جمعہ کی نماز پر پابندی کی عرضی! کمال مولا مسجد بھوج شالہ تنازع پھر سپریم کورٹ پہنچا

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع مشہور کمال مولا مسجد بھوج شالہ سے متعلق تنازع ایک بار پھر سپریم وکرٹ پہنچ گیا ہے۔ اس بار تنازع کی وجہ یہ ہے کہ بسنت پنچمی 23 جنوری کو جمعہ کے دن پڑ رہی ہے، جبکہ کمال مسجد بھوج شالہ میں ہر جمعہ کو نماز ادا کی جاتی ہے۔

ایک ہندو تنظیم نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے مطالبہ کیا ہے کہ 23 جنوری کو کمال مولا مسجد بھوج شالہ میں جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کی جائے اور صرف ہندوؤں کو سرسوتی پوجا کی اجازت دی جائے۔ عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت کو بتایا کہ درخواست میں یہ بھی مطالبہ شامل ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) اور ریاستی حکومت بسنت پنچمی کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کریں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بسنت پنچمی قریب ہونے کے باعث فوری سماعت ضروری ہے تاکہ پہلے سے واضح احکامات جاری ہو سکیں۔ عرضی میں 7 اپریل 2003 کے اے ایس آئی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت ہندوؤں کو ہر منگل اور بسنت پنچمی کے دن پوجا کی اجازت ہے، جبکہ مسلمانوں کو ہر جمعہ دوپہر 1 سے 3 بجے نماز کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکم موجودہ صورتحال پر تنازعہ پیدا کرتا ہے، بسنت پنچمی جمعہ کے دن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں