اہم خبر: ’ہم دیکھیں گے، تاریخ دیں گے‘ آسام کے وزیراعلیٰ کے انتہائی متنازع ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ ویڈیو پر سپریم کورٹ کا تبصرہ، چیف جسٹس کے ریمارکس پر مسلم برادری میں مایوسی

حیدرآباد (دکن فائلز) آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما سے منسوب متنازع ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ ویڈیو کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت نے اہم مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، سیاسی لڑائیاں بڑھتے بڑھتے ملک کی سب سے بڑی عدالت تک پہنچنے لگتی ہیں۔

واضح رہے کہ ہیمنتا بسوا سرما کے متنازعہ بیانات کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں کی نظر ملک کی عدالتوں پر تھی خاص طور پر سپریم کورٹ پر۔۔۔ تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملہ میں فوری کاروائی نہ کرنے کے بعد مسلمانوں میں مایوسی دیکھی گی۔

یہ معاملہ ہفتہ کے روز اس وقت سامنے آیا جب آسام بی جے پی کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی، جس میں وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو رائفل سے نشانہ لیتے اور فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں دو افراد کو دکھایا گیا تھا، جن میں ایک ٹوپی پہنے ہوئے اور دوسرا داڑھی والا تھا، جب کہ ویڈیو کا عنوان “Point-Blank Shot” درج تھا۔ شدید سیاسی ردعمل کے بعد اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا گیا، تاہم تنازع برقرار رہا۔

اس معاملے کو منگل کے روز ایڈووکیٹ نظام پاشاہ نے چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے فوری سماعت کے لیے پیش کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آسام کے موجودہ وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک مخصوص برادری کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور حالیہ ویڈیو انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق شکایات درج کروائی جا چکی ہیں، مگر تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ “مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی انتخابات آتے ہیں، انتخابات کا ایک حصہ سپریم کورٹ کے اندر لڑا جانے لگتا ہے۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ ہم دیکھیں گے، تاریخ دیں گے۔”

یہ عرضی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کی تقاریر اور بیانات ایک منظم انداز میں نفرت انگیز ہیں اور آسام میں رہنے والی مسلم اقلیت کو نشانہ بناتے ہیں۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے متعدد مواقع پر، ریاست کے اندر اور باہر، ایسے بیانات دیے جو پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں وسیع پیمانے پر پھیلائے گئے۔ ان بیانات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بادی النظر میں نفرت انگیز تقاریر کے زمرے میں آتے ہیں، جو ایک اقلیتی برادری کو کمتر دکھاتے، غلط اور بدنما تصورات کو فروغ دیتے، سماجی و معاشی بائیکاٹ کو ہوا دیتے اور تشدد و اخراج کے ماحول کو تقویت دیتے ہیں۔

عرضی میں خاص طور پر 7 فروری 2026 کو بی جے پی آسام کے آفیشل ایکس ہینڈل (@BJP4Assam) سے پوسٹ کی گئی ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وزیراعلیٰ کو دو بظاہر مسلم افراد کی اینیمیٹڈ تصویر پر فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ اس پر “point blank shot” اور “no mercy” جیسے الفاظ بھی درج تھے۔ درخواست کے مطابق شدید ردعمل کے بعد اگرچہ ویڈیو ہٹا دی گئی، مگر وہ اب بھی مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عمل وزیراعلیٰ کے آئینی عہدے کے حلف کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت ایف آئی آر درج کرنے اور آزاد و غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم یا کسی دیگر خودمختار ادارے کے قیام کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے ڈبروگڑھ میں ایک سرکاری تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس ویڈیو سے لاعلمی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، “مجھے کسی ویڈیو کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔” انہوں نے حیدرآباد میں اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت سے بھی لاعلمی ظاہر کی اور کہا کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا ہے تو وہ گرفتاری کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں