سنبھل پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر کا حکم! جج کے تبادلے کے بعد فیصلہ پر الہ آباد ہائیکورٹ کی عبوری روک

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز سنبھل کی ایک عدالت کے اس حکم پر عبوری روک لگا دی، جس میں مبینہ طور پر ہجوم پر فائرنگ کے الزام میں کئی پولیس اہلکاروں، جن میں سابق سرکل آفیسر انوج کمار چودھری بھی شامل ہیں، کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

جسٹس سمت گوپال نے یہ عبوری حکم انوج کمار چودھری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 24 فروری کو مقرر کر دی ہے۔ یہ کیس سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) کی جانب سے 9 جنوری کو دیے گئے اس حکم سے متعلق ہے، جس میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یہ معاملہ یامین نامی شخص کی شکایت سے جڑا ہے، جس نے الزام عائد کیا تھا کہ 24 نومبر 2024 کو صبح تقریباً 8 بج کر 45 منٹ پر اس کا بیٹا عالم جامع مسجد، محلہ کوٹ، سنبھل کے قریب اپنے ٹھیلے پر رسک اور بسکٹ فروخت کر رہا تھا، اسی دوران کچھ پولیس اہلکاروں نے قتل کی نیت سے ہجوم پر فائرنگ کر دی۔

شکایت میں سنبھل کوتوالی کے انچارج انوج کمار تومر اور سابق سرکل آفیسر انوج کمار چودھری کے نام شامل کیے گئے تھے۔ اس پر اس وقت کے سی جے ایم ویبھانشو سدھیر نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (BNSS) کی دفعہ 173(4) کے تحت درخواست منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس اہلکار مجرمانہ فعل کے لیے “سرکاری ڈیوٹی” کا تحفظ حاصل نہیں کر سکتے۔

سی جے ایم نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی شخص پر فائرنگ کرنا سرکاری فرائض کی ادائیگی نہیں کہلا سکتا، اور چونکہ ابتدائی طور پر قابلِ تعزیر جرم بنتا ہے، اس لیے سچائی کا انکشاف صرف مکمل تفتیش سے ہی ممکن ہے۔

ہائی کورٹ نے اب اس حکم پر عارضی روک لگاتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ اگلی سماعت میں لیا جائے گا۔ فی الحال ایف آئی آر کے اندراج پر روک برقرار رہے گی، جبکہ کیس پر سب کی نظریں 24 فروری کی سماعت پر مرکوز ہیں۔

واضح رہے کہ 9 جنوری کو سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کے کچھ روز بعد ان کا تبادلہ کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں