مسلمانوں کے خلاف ۔۔۔! مہاراشٹرا حکومت نے مسلم ریزرویشن کو ختم کردیا، فیصلے پر مسلمانوں کا شدید احتجاج، اسدالدین اویسی نے کی مذمت

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا حکومت کے محکمۂ سماجی انصاف کی جانب سے جاری کردہ تازہ حکمنامہ (جی آر) نے ریاستی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ حکومت نے 2014 میں مسلمانوں کو دی گئی 5 فیصد ریزرویشن سے متعلق سرکاری قرارداد کو منسوخ کرتے ہوئے اس کو مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ریاست بھر میں مسلمانوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔

یہ ریزرویشن جولائی 2014 میں اس وقت کی کانگریس-این سی پی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ متعارف کرایا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اسپیشل بیک ورڈ کلاس-اے کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے تعلیمی اداروں اور سرکاری و نیم سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ فراہم کیا گیا تھا۔ تاہم اسی سال نومبر میں بامبے ہائیکورٹ نے اس پر عبوری روک لگادی تھی۔

چونکہ یہ آرڈیننس 23 دسمبر 2014 تک ریاستی اسمبلی سے قانون کی شکل اختیار نہ کرسکا، اس لیے وہ خودبخود ختم ہوگیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اسپیشل لیو پٹیشن کی سماعت کے دوران اس ریزرویشن کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد یہ عملی طور پر غیر مؤثر ہوگیا تھا۔

باوجود اس کے، ریاستی حکومت نے اب تک اس سے متعلق اصل سرکاری قرارداد کو باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا تھا۔ 17 فروری 2026 کو جاری نئے حکمنامے کے ذریعے حکومت نے اس ریزرویشن سے متعلق تمام فیصلوں، مراسلت اور ذات/ویلیڈیٹی سرٹیفکیٹس کے اجرا کے عمل کو منسوخ کردیا ہے۔ اس کے تحت اب نہ تو کسی تعلیمی داخلے اور نہ ہی سرکاری یا نیم سرکاری ملازمت میں اس 5 فیصد کوٹے کے تحت تقرری ممکن ہوگی۔

حکومت کے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے اسے “رمضان کا تحفہ” قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت مسلم برادری کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے اور پسماندہ طبقات کے حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔

ریاست کے مختلف مسلم رہنماؤں اور سماجی تنظیموں نے بھی اس اقدام کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ریزرویشن پہلے ہی عدالتی فیصلوں کی وجہ سے نافذ العمل نہیں تھا، تاہم حکومت کا اسے باضابطہ طور پر ختم کرنا ایک سیاسی پیغام دیتا ہے جو مسلم برادری کے خلاف منفی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

مہاراشٹرا کے مختلف اضلاع میں مسلم تنظیموں اور طلبہ گروپوں نے احتجاجی بیانات جاری کیے ہیں۔ کئی سیاسی جماعتوں نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب یہ کوٹہ پہلے ہی قانونی طور پر غیر مؤثر تھا تو اس کی باضابطہ منسوخی کی جلدی کیوں کی گئی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام محض ایک “تکنیکی اور انتظامی عمل” ہے تاکہ موجودہ قانونی صورتحال کو واضح کیا جاسکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں حکومت کو سماجی ہم آہنگی اور اقلیتی طبقات کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں