رمضان کی آمد، مسجدِ اقصیٰ میں سجدوں کا سمندر — ایمانی جذبہ سے سرشار فلسطینیوں نے رکاوٹوں کے باوجود تراویح ادا کی

حیدرآباد (دکن فائلز) رمضان المبارک کی بابرکت اور روح پرور پہلی رات جب دنیا بھر میں اہلِ ایمان نے عشاء اور تراویح کی سعادت حاصل کی، تو قبلۂ اول مسجد اقصیٰ میں بھی ہزاروں فرزندانِ توحید نے سجدہ ریز ہو کر اس ماہِ رحمت کا استقبال کیا۔

مقدس شہر القدس کی فضا تکبیر و تہلیل سے گونج اٹھی، آنکھوں میں آنسو، لبوں پر دعا اور دلوں میں قبلۂ اول کی محبت لیے فلسطینی مسلمان تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مسجد اقصیٰ پہنچنے میں کامیاب رہے۔ یہ منظر اس بات کی روشن دلیل تھا کہ ایمان کی طاقت کسی جبر اور پابندی کی محتاج نہیں۔

ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی حکام نے مسجد کے دروازوں اور پرانے شہر کے داخلی راستوں پر سخت سکیورٹی نافذ کر رکھی تھی۔ نمازیوں کے شناختی کارڈز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی گئی اور متعدد افراد کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

اس کے باوجود ہزاروں عاشقانِ اقصیٰ رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے مسجد کے احاطے تک پہنچے اور پہلی تراویح ادا کی۔ جب امام کی آواز بلند ہوئی اور صفیں بندھیں تو یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں کی تاریخ ایک بار پھر زندہ ہو اٹھی ہو۔

نمازِ تراویح کے دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ قابض افواج نے مسجد کے صحنوں میں دراندازی کی، جس سے نمازیوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مگر ان حالات کے باوجود عبادت کا سلسلہ جاری رہا اور دعاؤں کی صدائیں فضا میں بلند ہوتی رہیں۔

رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا پیغام بھی ہے۔ یہی پیغام آج فلسطین کے مسلمانوں کی زندگیوں میں مجسم نظر آتا ہے۔

یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہر اینٹ گواہ ہے کہ ظلم کے سائے جتنے بھی گہرے ہوں، ایمان کی روشنی بجھائی نہیں جا سکتی۔ فلسطینی عوام برسوں سے محاصرے، پابندیوں اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان کے دلوں میں مسجد اقصیٰ کی محبت اور آزادی کی آرزو پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔

رمضان کی یہ پہلی رات اس حقیقت کی عکاس تھی کہ عبادت گاہوں پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، مگر عقیدت کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ سجدوں میں بہنے والے آنسو صرف ذاتی مغفرت کی دعا نہیں تھے بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسطین کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کی فریاد بھی تھے۔

مسجد اقصیٰ میں ادا کی گئی پہلی تراویح دراصل ایک پیغام تھی — یہ پیغام کہ اہلِ فلسطین اپنے قبلۂ اول سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ سختیوں، پابندیوں اور دراندازیوں کے باوجود ان کے قدم مسجد کی دہلیز سے وابستہ رہیں گے۔

رمضان کی رحمتیں ان دلوں پر سایہ فگن ہوں جو صبر کے پیکر بنے ہوئے ہیں۔ یہ مہینہ مغفرت کا بھی ہے اور نصرت کا بھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مظلوموں کی آہوں کو ضائع نہیں کرتا اور ہر رات کی تاریکی کے بعد سحر نمودار ہوتی ہے۔

آج مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں بلند ہونے والی دعائیں صرف فلسطین کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھیں — کہ امن قائم ہو، ظلم کا خاتمہ ہو اور قبلۂ اول اپنی اصل آزادی اور حرمت کے ساتھ آباد رہے۔

یا اللہ! فلسطین کے مظلوموں کی حفاظت فرما، مسجد اقصیٰ کو ہر سازش سے محفوظ رکھ، اور اس رمضان کو امتِ مسلمہ کے لیے امن، رحمت اور فتح کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں