حیدرآباد (دکن فائلز) غزہ کی پٹی میں رمضان المبارک کا آغاز ایک بار پھر بارود کی بو، خیموں کی بستیوں اور ادھورے دسترخوانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ایک طرف بھوک، بے گھری اور مسلسل خوف کی فضا ہے، تو دوسری طرف مقبوضہ بیت المقدس کے اطراف سخت حفاظتی اقدامات کے تحت اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جا رہی ہے اور متعدد فلسطینیوں کو مسجد الاقصیٰ میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔
رمضان کے پہلے ہی دن قابض اسرائیلی افواج نے غزہ کے مختلف علاقوں پر فضائی، زمینی اور بحری حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ غزہ شہر کے مشرقی محلوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی، جبکہ شمالی قصبے بیت حانون میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جنوب میں خان یونس اور رفح پر فضائی حملے جاری رہے اور ٹینکوں سے بھاری مشین گنوں کی فائرنگ کی اطلاعات ملیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد بھی سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ سات اکتوبر 2023 سے جاری خونریز جنگ نے دسیوں ہزار جانیں لے لیں، ہزاروں افراد لاپتہ ہیں اور شہری انفراسٹرکچر کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔
غزہ شہر کے علاقے الزرقہ میں ولید العاصی اپنی ننھی پوتی سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اسے رمضان بازار لے جائیں گے، جیسا کہ جنگ سے پہلے ہر سال ہوتا تھا۔ مگر اب وہ اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر لگے خیمے میں رہتے ہیں۔ کبھی قطایف اور دیگر روایتی پکوانوں سے سجے دسترخوان اب محض ایک خواب بن چکے ہیں۔ وہ بلند فشار خون اور ذیابیطس کے مریض ہیں، مگر ادویات اور بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔
امل السمری اور ان کا خاندان بھی ایک خیمے میں رمضان کا علامتی استقبال کر رہا ہے۔ بچے نئے کپڑے پہنے ہیں، مگر نہ بجلی ہے نہ پانی۔ وہ کہتی ہیں: “ہم پہلے رشتہ داروں سے ملتے، گھر سجاتے، بازار جاتے تھے۔ اب صرف زندہ رہنے کی جدوجہد ہے۔”
غزہ کے تاریخی بازار سوق الزاویہ میں اگرچہ فانوس اور خیرمقدمی بینر دکھائی دیتے ہیں، مگر مہنگائی نے لوگوں کی قوت خرید چھین لی ہے۔ ایک دکاندار کے مطابق جو فانوس پہلے 30 شیکل میں ملتا تھا، اب 60 شیکل میں فروخت ہو رہا ہے۔ طویل محاصرے اور درآمدات کی بندش نے قیمتیں دوگنی کر دی ہیں۔ بہت سے خاندان بازار سے خالی ہاتھ لوٹ جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے مطابق غزہ کی بڑی آبادی گنجان اور غیر محفوظ پناہ گاہوں میں مقیم ہے، جہاں بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ اس کے باوجود کچھ لوگ خوشی کے لمحے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک فلسطینی مسیحی شہری نے بازار میں رمضان کا نغمہ گنگناتے ہوئے کہا: “لوگ خوش ہونا چاہتے ہیں، چاہے حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں۔”
مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی رمضان کے آغاز پر چھاپہ مار کارروائیاں، گرفتاریاں اور آبادکاروں کے حملے جاری رہے۔ رام اللہ، نابلس اور الخلیل کے مختلف علاقوں میں فائرنگ، آنسو گیس اور جھڑپوں کی اطلاعات ملیں، جبکہ متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
مسلسل تیسرے سال غزہ رمضان کا استقبال جنگ، قحط اور تباہی کے سائے میں کر رہا ہے۔ وہ مہینہ جو کبھی روشنیوں، گہما گہمی اور افطار کی خوشبوؤں سے پہچانا جاتا تھا، آج سرد خیموں، بے روزگاری اور ملبے کے ڈھیروں کی علامت بن چکا ہے۔ ہزاروں خاندان امدادی باورچی خانوں کے محتاج ہیں، کئی دسترخوانوں پر پیاروں کی خالی کرسیاں دکھائی دیتی ہیں، اور ہر دل میں ایک ہی سوال ہے: کیا کل کا سورج امن کی خبر لائے گا؟
اس سب کے باوجود غزہ کے لوگ روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ خیموں پر جھنڈیاں آویزاں ہیں، بچے فانوس تھامے مسکرانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ہر لب پر دعا ہے۔
یہ رمضان واقعی صبر، آنسو اور دعا کا مہینہ ہے۔۔
یا رب! غزہ کو امن، عزت اور سکون عطا فرما۔۔
آمین۔


