حیدرآباد (دکن فائلز کے نمائندہ محمد نجم الدین کی رپورٹ) تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی کے شہر بانسواڑہ میں ایک نجی شاپنگ مال میں خاص مذہب کے گیت بجانے پر ہونے والا معمولی اختلاف اچانک فرقہ وارانہ کشیدگی میں تبدیل ہوگیا، جس کے نتیجے میں تصادم، پتھراؤ، دکانوں کو نقصان اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعہ نے نہ صرف مقامی سطح پر تشویش پیدا کی بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام ایک روزہ دار ڈاکٹر نے شاپنگ مال میں چلائے جانے والے خاص مذہب کے گیت بجانے پر اعتراض کیا، جس کے بعد بحث و تکرار نے شدت اختیار کرلی۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں جانب سے افراد جمع ہوگئے اور صورتحال تصادم میں بدل گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں گروہوں کے درمیان پتھراؤ ہوا، جس میں چند شہریوں کے ساتھ ساتھ بعض پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات قابو میں کرنے کی کوشش کی اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ اس کے باوجود کشیدگی برقرار رہی اور بعد ازاں بڑی تعداد میں افراد مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوکر احتجاج کرنے لگے۔ بعض شرپسند عناصر کی جانب سے چند چھوٹی دکانوں کو نقصان پہنچانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
کاماریڈی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شرد چندرا اور دیگر اعلیٰ افسران نے موقع کا دورہ کیا اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ پڑوسی اضلاع سے اضافی پولیس فورس طلب کی گئی تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔ پولیس کے مطابق فی الحال حالات قابو میں ہیں اور واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ فرقہ وارانہ واقعہ کے سلسلے میں درجنوں افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی کثیر مذہبی معاشرے میں عوامی یا تجارتی مقامات پر ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے، ریلائنس مارٹ میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں، ایسے میں خاص مذہب کے گیت بجانا فرقہ پرستی کی علامت ہے، جو کسی مخصوص طبقے کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔مارٹ کے منیجر پر بھی فرقہ پرست اور مسلم تعصب میں مبتلا ہونے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔
واقعہ کے بعد ہندوتوا شدت پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات اور اشتعال انگیز بیانات صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں، اس لیے پولیس کو چاہئے کہ اس طرح کے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کریں۔
عوام کو ذمہ داری ہے کہ ماحول کو پرامن رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں وہیں انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے، قصورواروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے اور متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کرے۔
بانسواڑہ جیسے پرامن قصبوں میں ہم آہنگی اور باہمی احترام کی فضا کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی سے وقتی سیاسی یا سماجی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر اس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ امن، قانون کی بالادستی اور بین المذاہب احترام ہی اس طرح کے واقعات کا مستقل حل ہیں۔
شہر میں فی الحال حالات پرامن ہیں۔ پولیس کی جانب سے سیکوریٹی کے مناسب انتظامات کئے گئے اور پٹرولنگ میں اضافہ کردیا گیا۔ پولیس نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔


