ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو ٹرمپ جہنم کے دروازے کھول دیں گے، وائٹ ہاؤس کا اعلان ۔ امریکا اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام نہ دے، ایرانی فوج کا سخت جواب

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایک طرف امریکی قیادت نے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، تو دوسری جانب ایران نے کسی بھی قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے “حقیقت تسلیم نہ کی” تو ڈونلڈ ٹرمپ “جہنم کے دروازے کھول دیں گے” اور امریکا بڑا حملہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو غلط اندازے لگانے سے باز آنا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق امریکی آپریشن اپنے اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور اسے آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی 90 فیصد میزائل تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تقریباً 9 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ آپریشن کے بعد تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی ناکامی کو “معاہدہ” کا نام دینے کی کوشش نہ کرے۔

انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ “خود سے ہی مذاکرات کر رہا ہے”۔ ان کے مطابق ایران اپنی شرائط کے بغیر نہ تو تیل کی پرانی قیمتوں کی بحالی ممکن بننے دے گا اور نہ ہی خطے میں سابقہ نظام بحال ہوگا۔

ایرانی ترجمان نے مسلم ممالک کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی ایسے بیرونی ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے جس کی اولین ترجیح اسرائیل ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا خطے کے ممالک کے دفاع کے لیے عملی اقدام نہیں کرے گا۔

ایرانی حکام نے امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ “ہمارے جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے”، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں