آج وقوف عرفہ: میدانِ عرفات لبیک اللّٰھم لبیک کی صداؤں سے گونج اٹھا! دنیا بھر کے لاکھوں عازمین ربِ کریم کے حضور دستِ دعا (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) حج 1447 ہجری کا سب سے عظیم اور بنیادی رکن ’’وقوفِ عرفہ‘‘ آج انتہائی عقیدت، خشوع و خضوع اور روحانی کیفیت کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندانِ توحید میدانِ عرفات میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کریں گے، توبہ و استغفار کریں گے اور رحمتِ الٰہی کے طلبگار بنیں گے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق حج کا سب سے اہم رکن وقوفِ عرفہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’الحج عرفہ‘‘ یعنی ’’حج عرفہ ہی ہے۔‘‘ یہی وہ مبارک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے، گناہوں کو معاف کرتا ہے اور جہنم سے بڑی تعداد میں لوگوں کو نجات عطا فرماتا ہے۔

حجاجِ کرام آج ظہر اور عصر کی نمازیں مسجدِ نمرہ اور میدانِ عرفات میں ادا کریں گے، خطبۂ حج سنیں گے اور پھر غروبِ آفتاب تک ذکر، تلاوتِ قرآن، درود شریف، توبہ و استغفار اور خصوصی دعاؤں میں مشغول رہیں گے۔ لاکھوں عازمین اپنے رب کے حضور آنسو بہاتے ہوئے اپنے لیے، اپنے اہلِ خانہ، امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کے لیے خیر و سلامتی کی دعائیں مانگیں گے۔

وقوفِ عرفہ کے دوران سب سے زیادہ پڑھی جانے والی دعا ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘ ہے۔ علما کے مطابق یومِ عرفہ دعا کی قبولیت کا عظیم دن ہے اور اس دن مانگی جانے والی دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔

سعودی وزارتِ امورِ اسلامی، دعوت و ارشاد نے میدانِ عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں لاکھوں عازمین کے استقبال کے لیے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ وزارت کے مطابق مسجدِ نمرہ میں ایک لاکھ 25 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر اعلیٰ معیار کے قالین بچھائے گئے ہیں تاکہ حجاج کرام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

شدید گرمی اور لو کے اثرات سے بچاؤ کے لیے مسجد کے عقبی صحن میں 19 بڑی چھتریاں نصب کی گئی ہیں، جو درجہ حرارت میں تقریباً 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی لانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ 117 جدید مسٹ فین بھی نصب کیے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں۔

وزارت نے مسجد کے اندر ایئر کنڈیشننگ، وینٹیلیشن اور ساؤنڈ سسٹم کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا ہے، جبکہ پینے کے ٹھنڈے پانی کی فراہمی کے لیے 70 کولنگ یونٹس نصب کیے گئے ہیں، جن سے فی گھنٹہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد حجاج مستفید ہو سکیں گے۔

حجاج کی رہنمائی کے لیے مسجد میں 150 ڈیجیٹل اسکرینیں فعال کی گئی ہیں، جبکہ مختلف زبانوں میں شرعی سوالات کے جوابات دینے کے لیے ویڈیو کالنگ پلیٹ فارمز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ وزارت نے مسجدِ نمرہ اور جبلِ رحمت کے اطراف 200 مبلغین، 50 مترجمین اور 300 دعوتی کارکن بھی تعینات کیے ہیں تاکہ عازمین کو ہر ممکن دینی و رہنمائی سہولت فراہم کی جا سکے۔

شدید رش کو منظم رکھنے کے لیے مسجد میں داخلے اور اخراج کے لیے 72 دروازوں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی، طبی امداد اور ہنگامی خدمات کے ہزاروں اہلکار بھی تعینات ہیں۔

ادھر سعودی حکام نے عازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، دھوپ سے بچاؤ کے لیے چھتریوں کا استعمال کریں اور طبی ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ مناسکِ حج کو بخیر و عافیت ادا کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں