حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ,ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے درمیان عرب اور مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہوئے “ابراہم معاہدوں” میں شامل ہوں۔ ٹرمپ کی یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ایک بڑے سفارتی دباؤ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور بحرین سمیت متعدد مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم کانفرنس کال کی، جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی۔
ٹرمپ نے اس گفتگو میں کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ یا کشیدگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو خطے میں “نئے مشرقِ وسطیٰ” کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ مزید مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں اور ابراہم معاہدوں کا حصہ بنیں۔ اطلاعات کے مطابق اس تجویز پر کئی عرب رہنماؤں نے خاموشی اختیار کی جبکہ بعض ممالک نے فلسطین مسئلے کے حل کو بنیادی شرط قرار دیا۔
واضح رہے کہ “ابراہم معاہدے” پہلی مرتبہ 2020 میں ٹرمپ دورِ حکومت میں متعارف کرائے گئے تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس معاہدے کو امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا تھا، تاہم فلسطینی قیادت اور کئی مسلم ممالک نے اسے فلسطینی کاز کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔
تازہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہی ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے، خطے میں جنگ بندی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی جیسے امور زیر غور ہیں۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے بغیر کسی حتمی سمجھوتے کا امکان نہیں۔
ادھر اسرائیلی حلقوں میں بھی اس ممکنہ امریکی پالیسی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ بعض اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ نرم معاہدہ اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں اس کے مفادات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی ریپبلکن رہنماؤں کے ایک حلقے نے بھی ٹرمپ کی مجوزہ ایران پالیسی پر تنقید کی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ ایک بار پھر خود کو مشرقِ وسطیٰ میں “امن ساز” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم فلسطین، غزہ اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں بیشتر عرب و مسلم ممالک کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا اب بھی ایک نہایت حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب جیسے اہم ممالک کی شمولیت کے بغیر ابراہم معاہدوں کی توسیع مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی، جبکہ فلسطینی عوام کے حقوق اور آزاد ریاست کے مطالبے کو نظر انداز کر کے خطے میں پائیدار امن کا خواب حقیقت بننا مشکل دکھائی دیتا ہے۔


