چندرابابو نائیڈو کا سیکولر چہرہ بے نقاب؟ کڑپہ تشدد کے بعد مسلمانوں کی گرفتاری اور حراستی تشدد کا الزام! اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں سنگین الزامات

حیدرآباد (دکن فائلز) آندھرا پردیش کے کڑپہ میں 9 مئی کو الماس پیٹ سرکل پر پیش آئے تشدد کے بعد مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی، گرفتاریوں اور حراستی تشدد کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد تلگودیشم کے صدر اور وزیراعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، جبکہ وہ خود کو سیکولر ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے کہنے اور کرنے میں فرق صاف ظاہر ہوتا ہے۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس یعنی اے پی سی آر نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ پولیس کارروائی میں مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تنازع ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ اور ’’ہنومان سرکل‘‘ کے ناموں کے بینرس کو لے کر شروع ہوا۔

اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ فروری 2026 میں کڑپہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اس مقام کا نام ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ رکھنے کی تجویز زیر غور تھی، لیکن وہاں ’’ہنومان سرکل‘‘ کے بینرس لگائے جانے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔ واضح رہے کہ انتخابات سے قبل چندرا بابو نائیڈو نے خود اس چوراہے کا نام ٹیپو سلطان رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ تشدد کے بعد پولیس نے مسلم اکثریتی علاقوں میں لاٹھی چارج کیا، تقریباً 100 مسلمان زخمی ہوئے، جبکہ کئی افراد خوف کے باعث اسپتال بھی نہیں گئے۔ اے پی سی آر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کم از کم 25 مسلم نابالغوں کو، جن میں ایک مبینہ طور پر 12 سال کا بچہ بھی شامل تھا، رات دیر تک حراست میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ مارپیٹ و بدسلوکی کی گئی۔

اے پی سی آر نے تشدد، ایف آئی آرز، گرفتاریوں، مبینہ حراستی تشدد، سی سی ٹی وی فوٹیج، پولیس لاگز اور اسپتال ریکارڈ کی آزادانہ عدالتی یا مجسٹریٹ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انصاف اسی وقت ممکن ہے جب کارروائی مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں